ہم کو زمانے بھر سے ملے جب بھی غم ملے
Poet: zaigham jaffery By: zaigham jaffery, Daskaہم کو زمانے بھر سے ملے جب بھی غم ملے
جاری ہوئے ہیں آنکھوں میں چھم چھم کے سلسلے
آئی ہے پھر سے باغِ تمنا بہارِنو
پھر جاگنے لگے ہیں مرے سوئے ولولے
بدنامیوں کا خوف غمِ ہجر بن گیا
آشوب آگئے ہیں مگر ہونٹ نہ ہلے
ملتی ہے جن سے قلب کو تسکین دوستو
لازم نہیں کہ باغ میں وہ ہی پھول ہی کھلے
نہ شَیخ کو پتا ہے نہ پنڈت کو علم ہے
اب کون حل کرے گا محبت کے مسئلے
ہاتھوں میں جان لے کے چلو باندھ سر کفن
طے اس طرح سے ہوتے ہیں چاہت کے مرحلے
یہ داستانِ عشق بڑی درد ناک ہے
تم آزماو عشق میاں ہم تو اب چلے
وہ ہم کو اور کوئی انہیں بھی نہ مل سکا
ہیں جعفری تمام یہ قدرت کے فیصلے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






