یہ چاند اور ستاروں کا ساتھ کافی ہے
Poet: zaigham jaffery By: zaigham jaffery, Daskaیہ چاند اور ستاروں کا ساتھ کافی ہے
ہمیں تو درد کے ماروں کا ساتھ کافی ہے
عنایتیں ہیں یہ تیری ہی کاغذ اور قلم
جو سُونی سُونی دیواروں کا ساتھ کافی ہے
تمہارے جانے سے ہمدرد ہم اکیلے نہیں
کہ یادِ ماضی کے پاروں کا ساتھ کافی ہے
نہ زاہدوں کی نہ ہم کو ہے عابدوں کی ارب
آوارہ ہم ہیں آواروں کا ساتھ کافی ہے
صدا یہ باغ سے آئی خزاں کے موسم میں
گلابِ تر کو بہاروں کا ساتھ کافی ہے
تو مبتلا ہے غلط فہمیوں میں کیوں ضیغم
کہ مشکلات میں پیاروں کا ساتھ کافی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






