ہم کہ صحرا برد ہوئے
Poet: shaheenawan By: shaheenawan, haripur hazara یہ گجرے باہوں کے
یہ کاجل آنکھوں کا
یہ آنسو پلکوں کے
کیوں ہم پر ہنستے ہیں ، آوازے کستے ہیں
یہ تکیہ میرے بسترکا
سپنے میری نیندوں کے
کب چیں سے سوتے ہیں ،کیوں شب بھر روتے ہیں
اب قدم مسافت سے بوجھل ہوئے جاتے ہیں
ہم اپنی ہی آنکھوں سے اوجھل ہوئے جاتے ہیں
دیپک یہ امید کے مدھم ہی نہ ہو جائیں
صحراؤں کے یہ ٹیلے پرنم ہی نہ ہو جائیں
کس نگر پڑاؤ ہے ،کس دیس ٹھکانہ ہے
منزل ہے کہاں اپنی کس سمت جانا ہے
خوشیاں بھی ہیں صدمے بھی ،یہ جھل تھل جزبے بھی
اب تیرے سپرد ہوئے
اس نیند سے کیا جاگے
ہم صحرا برد ہوئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







