میں تیرے چہرے پہ پھولوں کا سایہ کرتا
Poet: SHABEEB HASHMI By: SHABEEB HASHMI, ALKHOBAR (KSA)بہار میں عجب لطف میں اٹھایا کرتا
تیرے چہرے پہ پھولوں کا سایہ کرتا
ستارے خاموش اور چاند کی زباں نہ کھلے
میں اپنے خواب ان سب کو سنایا کرتا
وہ جھیل جس کے کنارے بیٹھ کر اکثر
میں تری تصویروں سے دل بہلایا کرتا
قصیدے لکھتا تیرے حسن کے اپنے شعروں میں
اور اپنی غزلوں میں تیرا رؤپ سجایا کرتا
وہ رات پھر سے محبت کا پیغام لے آئے
میں تیری خوشبؤ سے آنگن کو مہکایا کرتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






