ہم کہیں بھی ہوں مگر یہ چھٹیاں رہ جائیں گی

Poet: Laraib By: Rabi, karachi

ہم کہیں بھی ہوں مگر یہ چھٹیاں رہ جائیں گی
پھول سب لے جائیں گے پر پتیاں رہ جائیں گی

کام کرنا ہو جو کر لو آج کی تاریخ میں
آنکھ نم ہو جائے گی پھر سسکیاں رہ جائیں گی

اس نئے قانون کا منظر یہی دکھتا ہے اب
پاؤں کٹ جائیں گے لیکن بیڑیاں رہ جائیں گی

صرف لفظوں کو نہیں انداز بھی اچھا رکھو
اس جگت میں صرف میٹھی بولیاں رہ جائیں گی

کیوں بناتے ہو سیاست کو تم اپنا ہم سفر
سب چلے جائیں گے لیکن کرسیاں رہ جائیں گی

تم کو بھی آدرش پر آدرشؔ چلنا ہے یہاں
ورنہ اس دلدل میں دھنستیں پیڑھیاں رہ جائیں گی

Rate it:
Views: 545
11 Sep, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL