ہم کہیں نہیں ہوں گئے

Poet: kanwal naveed By: kanwal naveed, karachi

اک بات ہے عجیب سی
سب کے مگر قریب سی
جانتے ہیں مگر انجان سب
اس سچ سے بد گمان سب
ہم کہیں نہیں ہوں گئے
ہم کہیں نہیں ہوں گئے

کچھ سال ہیں رنجشوں کے
کچھ سال محنت کشوں کے
کچھ سال اور ازیت کے بھی
کچھ سال اور اہمیت کے بھی
ہم کہیں نہیں ہوں گئے
ہم کہیں نہیں ہوں گئے

دل کا سب غم ختم ہو گا
ختم محبوب کا ستم ہو گا
ختم ہوگا امتحان زندگی
ختم ہوں گئے لمحات بندگی
ہم کہیں نہیں ہوں گئے
ہم کہیں نہیں ہوں گئے

کوئی خواب نہ کوئی درد رہے گا
نہ کوئی ظاہری ہمدرد رہے گا
اک ننھا سا گھر لے کر سوئیں گئے
ہم نہ کسی کی خاطر روئیں گئے
ہم کہیں نہیں ہوں گئے
ہم کہیں نہیں ہوں گئے

یہی امید دیتی ہے حوصلہ
ٹوٹ جاتا ہے ہر پرانا گونسلہ
نئے پنچھی سجاتے نئے رنگ ہیں
سسلہ زندگی سے سبھی دھنگ ہیں
ہم کہیں نہیں ہوں گئے
ہم کہیں نہیں ہوں گئے

Rate it:
Views: 549
05 Jul, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL