ہم کہیں نہیں ہوں گئے
Poet: kanwal naveed By: kanwal naveed, karachiاک بات ہے عجیب سی
سب کے مگر قریب سی
جانتے ہیں مگر انجان سب
اس سچ سے بد گمان سب
ہم کہیں نہیں ہوں گئے
ہم کہیں نہیں ہوں گئے
کچھ سال ہیں رنجشوں کے
کچھ سال محنت کشوں کے
کچھ سال اور ازیت کے بھی
کچھ سال اور اہمیت کے بھی
ہم کہیں نہیں ہوں گئے
ہم کہیں نہیں ہوں گئے
دل کا سب غم ختم ہو گا
ختم محبوب کا ستم ہو گا
ختم ہوگا امتحان زندگی
ختم ہوں گئے لمحات بندگی
ہم کہیں نہیں ہوں گئے
ہم کہیں نہیں ہوں گئے
کوئی خواب نہ کوئی درد رہے گا
نہ کوئی ظاہری ہمدرد رہے گا
اک ننھا سا گھر لے کر سوئیں گئے
ہم نہ کسی کی خاطر روئیں گئے
ہم کہیں نہیں ہوں گئے
ہم کہیں نہیں ہوں گئے
یہی امید دیتی ہے حوصلہ
ٹوٹ جاتا ہے ہر پرانا گونسلہ
نئے پنچھی سجاتے نئے رنگ ہیں
سسلہ زندگی سے سبھی دھنگ ہیں
ہم کہیں نہیں ہوں گئے
ہم کہیں نہیں ہوں گئے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






