ہمیں بھی مطلب و معنی کی جستجو ہے بہت
Poet: ظفر اقبال By: Faizan, Karachiہمیں بھی مطلب و معنی کی جستجو ہے بہت
حریف حرف مگر اب کے دو بہ دو ہے بہت
وقار گھر کی تواضع ہی پر نہیں موقوف
بہ فیض شاعری باہر بھی آبرو ہے بہت
پھٹے پرانے دلوں کی خبر نہیں لیتا
اگرچہ جانتا ہے حاجت رفو ہے بہت
بدن کا سارا لہو کھنچ کے آ گیا رخ پر
وہ ایک بوسہ ہمیں دے کے سرخ رو ہے بہت
ادھر ادھر یوں ہی منہ مارتے بھی ہیں لیکن
یہ مانتے بھی ہیں دل سے کہ ہم کو تو ہے بہت
اب اس کی دید محبت نہیں ضرورت ہے
کہ اس سے مل کے بچھڑنے کی آرزو ہے بہت
یہی ہے بے سر و پا بات کہنے کا موقع
پتا چلے گا کسے شور چار سو ہے بہت
یہ حال ہے تو بدن کو بچایئے کب تک
صدا میں دھوپ بہت ہے لہو میں لو ہے بہت
یہی ہے فکر کہیں مان ہی نہ جائیں ظفرؔ
ہمارے معجزۂ فن پہ گفتگو ہے بہت
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






