ہنستے ہیں یونہی ہنس کے رلا جاتے ہیں لوگ
Poet: By: SAJID REHMAN, kuwaitہنستے ہیں یونہی ہنس کے رلا جاتے ہیں لوگ
ملتے ہیں جونہی مل کے جدا ہو جاتے ہیں لوگ
پل دو پل عمر کا ساتھ نہ سمجھو
محبت بھی کرتے ہیں اور خفا بھی ہو جاتے ہیں لوگ
کہتے ہیں نہ جانے کن کن مجبوریوں کا
کر کے اظہار محبت بے پروا ہو جاتے ہیں لوگ
نصیب میں نہیں تھا جو ملا ہی نہیں
محبت کی آڑ میں زہر پلا جاتے ہیں لوگ
کر کے وفا کا وعدہ بے وفا ہو جاتے لوگ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







