ہو جاتے ہیں ناراض سوالات کرو تو
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiہو جاتے ہیں ناراض سوالات کرو تو
اظہارِ محبت کی شروعات کر تو
ہم پر یہ تمھارا بہت احسان رہے گا
عجلت میں کسی روز ملاقات کرو تو
الزام نہیں آپ پہ آئے گا کبھی پھر
ہنس ہنس کے کسی سے نہ کبھی بات کرو تو
اللہ صلہ دے گا سنور جائے گی قسمت
بے لوث صداقت سے عنایات کرو تو
پل بھر میں سبھی ختم ہو جائیں گے یہ قضیے
تم جلوے دکھا کر وہ کمالات کرو تو
جیون یہ تمھارے بنا دشوار ہے جینا
ممنون رہوں وصل کے حالات کرو تو
گرویدہ تمھارا بھی ہو جائے گا زمانہ
شہزاد اگر حسن کی خیرات کرو تو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






