ہوائیں مہکیں محبت کے پھول کھلنے لگے (دوگانا)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanلڑکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم ایک دوجے سے ان وادیوں میں ملنے لگے
ہوائیں مہکیں محبت کے پھول کھلنے لگے
تمھارے دل کی میں دھڑکن ہوں اے مرے ہمدم
ہو پیاسے تم تو میں ساون ہوں اے مرے ہمدم
خوشی کے پل ہمیں اب صبح و شام ملنے لگے
ہوائیں مہکیں محبت کے پھول کھلنے لگے
لڑکا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حسیں نظاروں میں ہم تم جو آج ملنے لگے
ہر ایک سمت محبت کے پھول کھلنے لگے
نئی امنگ ، نئی زندگی ملی مجھ کو
تمھارا پیار ملا ہر خوشی ملی مجھ کو
قدم قدم پہ جو کھائے تھے زخم سلنے لگے
ہر ایک سمت محبت کے پھول کھلنے لگے
لڑکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم ایک دوجے سے ان وادیوں میں ملنے لگے
ہوائیں مہکیں محبت کے پھول کھلنے لگے
لڑکا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حسیں نظاروں میں ہم تم جو آج ملنے لگے
ہر ایک سمت محبت کے پھول کھلنے لگے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






