ہونا تھا حقیقت خواب ہوئے جاتے ہیں
Poet: Zahir ul hussan By: Zahir ul hussan, Jammuہونا تھا حقیقت خواب ہوئے جاتے ہیں
ہم تنہائی کے نصاب ہوئے جاتے ہیں
چہرے پہ تبسموں کے جو پردے رکھے
زخموں کے اب وہ گلاب ہوئے جاتے ہیں
اک وقت سے تھا دل میں امید کا چرچا
اب سب خوابوں کے عذاب ہوئے جاتے ہیں
دریا کی طرح بہتے جاتے ہیں سب
اشکوں کے یہ سیلاب ہوئے جاتے ہیں
سائے بھی ہمارا ساتھ نہیں دیتے اب
ہم خود بھی عجب تہہ خواب ہوئے جاتے ہیں
اک دور تھا دل میں شوق جنوں تھا باقی
لو اب ہم چپ کے نصاب ہوئے جاتے ہیں
اب زہر بنی خوشبو تھی جؤ حرفوں کی
افسانے کل نایاب ہوئے جاتے ہیں
آواز وفا ویران گلی میں ہے اب
سب جذبے حساب کتاب ہوئے جاتے ہیں
الفاظ کے سائے میں روتی ہیں دعائیں
احساس بھی اب نایاب ہوئے جاتے ہیں
چپ چاپ کھڑے ہیں دل کے مقبرے پہ ہم
تم جیسوں کو اب نایاب ہوئے جاتے ہیں
ہم شہرِ وفا کے آخری ساکن ٹھہرے
ہم بھی یادوں کا نصاب ہوئے جاتے ہیں
دنیا کی رَو میں بہہ کے بھی ہم زاہد
تنہائی میں مہتاب ہوئے جاتے ہیں
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






