ہونا نہیں اب اس نے مہربان چھوڑدے
اُس کے لیے تُو چاہے یہ جہان چھوڑدے
کتنی اُٹھائیں ہم نے مشقت تیرے لیے
کتنے اکیلے جھیلے تھے طوفان چھوڑدے
ہم سا بھی کوئی مفلس و نادار نہ ہوگا
جس کو کوئی بھی عشق کے دوران چھوڑدے
تم اتنے دل فریب نہیں اتفاق سے
کہ کوئی تم کو دیکھ کر ایمان چھوڑدے
تم سے نہ چل سکے گا محبت کا کاروبار
اے دوست! کرائے کی ہے دوکان چھوڑ دے
کیوں سگریٹوں سے جی کو جلاتے ہو آج تک
اس میں صحت کاہے تیری نقصان چھوڑدے
گر دیکھنی ہو ہجر میں جاں بازیاں میری
میرے لیے تُو کھلا آسمان چھوڑدے
میری رضا سے آج الگ مجھ سے ہوگیا
پھر اس کی طلب اے دلِ نادان چھوڑدے
جس کی متاعِ زیست فقط تیری ذات ہو
کیا اُس کو یونہی بے سروسامان چھوڑدے؟
ہم تیرا انتظار بھی کرلیں گے عمر بھر
ہم وہ نہیں جو بیچ میں میدان چھوڑدے
میں اتنی شدتوں سے تجھے یاد آؤں گا
ممکن ہے کہ تُو صبر کا دامان چھوڑدے
میری غزل پہ ڈالنا بس سرسری نظر
اِس کے پسِ پردہ ہے کیا عنوان چھوڑدے
اُس کو بھلانے کے لئے اُس مہ جبین نے
کس درجہ بھاری مانگا ہے تاوان چھوڑدے
جا تجھ کو مبارک ہو جہاں بھر کی رونقیں
جا چھوڑدے میرا دلِ ویران چھوڑدے
مجھ کوسکوں کے ساتھ میں رہنے دے چند روز
اے عشق! تُو خدارا میری جان چھوڑدے
وہ شخص جو کہ قصہ پارینہ ہوگیا
اس کی تلاش مُعتبرؔ ریحان چھوڑدے