ہونٹ ہیں خشک
Poet: By: Peerzada Arshad Ali Kulzum, harrisburg pa usaہونٹ ہیں خشک عجب سی تشنگی ہے
ساقی پلا دے اب جو کچھ بچی کچی ہے
ٹھانی ہے تیرے ہاتھ سے ہی پیوں گا میں
اسی لگی ہوئی ہے جو کبھی کسی سے نہ بجھی ہے
تیرے لیے ہے جینا تیرے لیے مرنا یاد رکھ
تو ہی میری زندگی تو ہی میری بندگی ہے
ساز دل ساقی اک بار چھیڑ دے پھر تو اب
گل کے ساتھ کھلے اسی میں میری زندگی ہے
میری بےبسی کا عالم کوئی میرے دل سے پوچھے
میں نے جس جگہ سر جھکایا وہاں ختم بندگی ہے
پینے کا جب مزا ہے آنکھوں سے تیری پی لوں
صراحی سے پینے میں آخر کیا مزا بندہ پرواری ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






