ہونٹوں سے تو چھینی ہی تھی مسکان ہماری
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Karachiہونٹوں سے تو چھینی ہی تھی مسکان ہماری
اب لگتا ہے لے جائے گا تُو جان ہماری
مر جائیں گے اک روز یوں غزلوں کی زمیں میں
رہ جائے گی اشعار میں پہچان ہماری
اب رہتی ہے چہرے کی طبیعت میں اداسی
تب حُسن کی دنیا میں بھی تھی شان ہماری
اے کاش چلی آئے کبھی صبح بھی ملنے
ہر شام بنی رہتی ہے مہمان ہماری
وہ چاند ہے چمکے گا ،ہمیں دے گا اجالے
کر دے گا وہ راتوں کو یوں حیران ہماری
کیوں رہتی ہے مایوس مقدر سے تُو وشمہ
مشکل بھی تو ہو سکتی ہے آسان ہماری
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






