کوئی حسیں منظر آنکھوں سے جب اوجھل ہو جائے گا
Poet: طاہر فراز By: ساجد ہمید, Karachiکوئی حسیں منظر آنکھوں سے جب اوجھل ہو جائے گا
مجھ کو پاگل کہنے والا خود ہی پاگل ہو جائے گا
پلکوں پہ اس کی جلے بجھیں گے جگنو جب مری یادوں کے
کمرے میں ہوں گی برساتیں گھر جنگل ہو جائے گا
جس دن اس کی زلفیں اس کے شانوں پر کھل جائیں گی
اس دن شرم سے پانی پانی خود بادل ہو جائے گا
جب بھی وہ پاکیزہ دامن آ جائے گا ہاتھ مرے
آنکھوں کا یہ میلا پانی گنگا جل ہو جائے گا
اس کی یادیں اس کی باتیں اس کی وفائیں اس کا پیار
کس کو خبر تھی جینا مشکل ایک اک پل ہو جائے گا
مت گھبرا اے پیاسے دریا سورج آنے والا ہے
برف پہاڑوں سے پگھلی تو جل ہی جل ہو جائے گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






