ہے یاد فقط پیار کی پہلی نظر مجھے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillدنیا سے سروکار نہ اپنی خبر مجھے
ہے یاد فقط پیار کی پہلی نظر مجھے
شاید میں انکی ذات کا بچھڑا وجود ہوں
یوں مل رہے آج بھی ویراں شجر مجھے
خالی ہیں جسکے ہاتھ مرے خواب کی صورت
چاہا تھا کبھی اس نے بہت ٹوٹ کر مجھے
دل ہے کسی بھی طور بہلنے سے گریزاں
وہ اک خیال لے گیا جانے کدھر مجھے
منزل ہے اسکی اور مگر اتنا یقیں ہے
سوچے گا بہت دیر میرا ہمسفر مجھے
میں اشک کی صورت کہیں قدموں میں گرا تھا
پلکوں پہ ڈھونڈتی رہی باد سحر مجھے
طوفاں بن کے ٹوٹ پڑی سرپھری ہوا
وہ نقش کر رہا تھا ابھی ریت پر مجھے
ممکن ہے تری تجھ سے ملاقات کرا دوں
فرصت ملے تو سوچ کبھی ڈوب کر مجھے
تھاما ہے ترا ہاتھ میرے ذوق جنوں نے
لرزیدہ کر نہ پائے گا اب کوئی ڈر مجھے
میں زندگی کے تھوڑے حسابات چکا لوں
اے موت ساتھ لے کے ہی جانا-ٹھہر ! مجھے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







