ہے یاد فقط پیار کی پہلی نظر مجھے

Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hill

دنیا سے سروکار نہ اپنی خبر مجھے
ہے یاد فقط پیار کی پہلی نظر مجھے

شاید میں انکی ذات کا بچھڑا وجود ہوں
یوں مل رہے آج بھی ویراں شجر مجھے

خالی ہیں جسکے ہاتھ مرے خواب کی صورت
چاہا تھا کبھی اس نے بہت ٹوٹ کر مجھے

دل ہے کسی بھی طور بہلنے سے گریزاں
وہ اک خیال لے گیا جانے کدھر مجھے

منزل ہے اسکی اور مگر اتنا یقیں ہے
سوچے گا بہت دیر میرا ہمسفر مجھے

میں اشک کی صورت کہیں قدموں میں گرا تھا
پلکوں پہ ڈھونڈتی رہی باد سحر مجھے

طوفاں بن کے ٹوٹ پڑی سرپھری ہوا
وہ نقش کر رہا تھا ابھی ریت پر مجھے

ممکن ہے تری تجھ سے ملاقات کرا دوں
فرصت ملے تو سوچ کبھی ڈوب کر مجھے

تھاما ہے ترا ہاتھ میرے ذوق جنوں نے
لرزیدہ کر نہ پائے گا اب کوئی ڈر مجھے

میں زندگی کے تھوڑے حسابات چکا لوں
اے موت ساتھ لے کے ہی جانا-ٹھہر ! مجھے

Rate it:
Views: 1684
18 May, 2014
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL