یادوں کا اک ہجوم ہے پہچان کر گیا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیایادوں کا اک ہجوم ہے پہچان کر گیا
چہرے پہ آج آپ کے مسکان ۔۔ کر گیا
میں نیند کے خمار سے یک دم نکل گئی
آئی صدا جو کان میں بے جان کر گیا
جب سے نگاہِ ناز نے بدلے ہیں سلسلے
کاجل یہ میری آنکھ میں حیران ۔۔ کر گیا
چھوڑی ہے جب سے پیار کے گلشن کی وہ گلی
اب میرے گھر میں پھول سے گل دان کر گیا
کیسی یہ اس نے پیار پہ لکھی ہے اک غزل
جس میں شبِ حیات کا عنوان ۔۔ کر گیا
اچھے دنوں میں ساتھ تھا وشمہ ترا مگر
مشکل میں ساتھ آج مری جان۔۔ کر گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






