یار ایسا ملے
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiیار ایسا ملے جو پیارا ہو
خوب صورت حسیں نظارہ ہو
زندگی بھر چلے ہمارے ساتھ
ان پہ تو حق فقط ہمارا ہو
ساتھ ماں کی دعا اگر ہوگی
ایسا ممکن نہیں خسارہ ہو
آرزو دل میں بس یہی ہے اب
اپنا بھی کوئی اب ادارہ ہو
ایسا ہوگا نہیں کبھی ممکن
حال دل کا نہ آشکارہ ہو
سب کے ماں باپ چاہتے ہیں ہہی
بیٹا بوڑھاپے کا سہارہ ہو
آج شہزاد یار نے یہ کہا
چاند سورج حسیں ستارہ ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






