یوں تو ہوتی ہیں مِری اُن سے ملاقاتیں کئی
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKیوں تو ہوتی ہیں مِری اُن سے ملاقاتیں کئی
باقی رہ جاتی ہیں دِل میں اور بھی باتیں کئی
غیر کے پہلوُ میں تھے وہ ، اور ہم تنہا یہاں
ہم نے دیکھیں زندگی میں ایسی بھی راتیں کئی
عشق مجنوں بھی ہے،سرمد بھی ہے اور منصوُر بھی
عشق کے ہیں رنگ لاکھوں عشق کی ذاتیں کئی
چاہتوں کے پھول ، جذبے اور پیمانِ وفا
نذر کر دوں گی انھیں میں، ایسی سوغاتیں کئی
بن لیۓ دُلہن کی ڈولی لیۓ جو پلٹ جاتی رہیں
ہم نے دیکھیں زندگی میں ایسی باراتیں کئی
پاس دُشمن کے مرے، مجھ کو ہرانے کے لیۓ
اور ترکیبیں بہت تھیں، اور تھیں گھاتیں کئی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







