ہر زخم زخم تجھکو پکارے تمام رات
Poet: Anwar Kazimi By: syed kazimi, mississauga, Canada ہر زخم زخم تجھ کو پکارے تمام رات
سویا نہیں میں درد کے مارے تمام رات
آ جا کہ انتظار میں کب تک بھلا کوئی
مثلِ چراغِ راہ گزارے تمام رات
کتنا عجیب تھا ، مجھے بے چین دیکھ کر
اُڑتے رہے فلک پہ ستا رے تمام رات
تو بھی سکونِ قلب کو ترسے مرِی طرح
تو بھی تڑپ تڑپ کے گزارے تمام رات
کہہ دو اداس رُت سے مرِے ساتھ بیٹھ کر
زُلفِ شبِ سیاہ سنوارے تمام رات
لکھو گے میرا نام جو سپنوں کے پنکھ پر
جاگا کر یں گے نین تمہارے تمام رات
مثلِ چراغ ہی مجھے رہنے دے بزم میں
جلتا رہو ں گا ایک کنارے تمام رات
نوٹ۔ اس غزل کے ایک شعر کا مرکزی خیال کسی نامعلوم شاعر کے شعر سے ماخوز ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






