یوں تو ہیں ڈھیروں یہاں جاننے والے میرے
Poet: muhammad faizan munghiz By: muhammad faizan munghiz, jhelumیوں تو ہیں ڈھیروں یہاں جاننے والے میرے
پر نہیں کوئی بھرے کالج میں جو میرا ہو
نہ کوئی دوست، نہ ہمدم، نہ ساتھی ،نہ رفیق
کاش پھر چل پڑے مجھ سے وہ وفاوں کا طریق
ہر کوئی اپنی ہی مستی میں یہاں گم ہے منغض
اور بتائے کیا کب کا ، کہاں گم ہے منغض
کاش آتا وہ میرے پاس جو تنہا ہوتا
اور آتے تو میرے دکھ کا مداوا ہوتا
میں تو مر جاوں تصور تیرا کیسا ہوتا
محفل میں تیرا ذکر،تیرا چرچا ہوتا
آئینہ دیکھتا تجھ کو تو وہ اندھا ہوتا
تو جو ہوتا مرے پاس تو کیا کیا ہوتا
وہ اگر ہوتا میرا ، کچھ وہ ایسا ہوتا
چاند سورج اسے دیکھ ابھرتا ہوتا
وہ جو محبوب میرا گھر سے نکلتا ہوتا
راہ کا ہر رہرو اسے غور سے تکتا ہوتا
کاش ہوتا تو میرا سب پہ یہ ظاہر ہوتا
تیری آنکھوں کو پڑھنے کا میں ماہر ہوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






