یوں تو ہیں ڈھیروں یہاں جاننے والے میرے

Poet: muhammad faizan munghiz By: muhammad faizan munghiz, jhelum

یوں تو ہیں ڈھیروں یہاں جاننے والے میرے
پر نہیں کوئی بھرے کالج میں جو میرا ہو
نہ کوئی دوست، نہ ہمدم، نہ ساتھی ،نہ رفیق
کاش پھر چل پڑے مجھ سے وہ وفاوں کا طریق
ہر کوئی اپنی ہی مستی میں یہاں گم ہے منغض
اور بتائے کیا کب کا ، کہاں گم ہے منغض
کاش آتا وہ میرے پاس جو تنہا ہوتا
اور آتے تو میرے دکھ کا مداوا ہوتا
میں تو مر جاوں تصور تیرا کیسا ہوتا
محفل میں تیرا ذکر،تیرا چرچا ہوتا
آئینہ دیکھتا تجھ کو تو وہ اندھا ہوتا
تو جو ہوتا مرے پاس تو کیا کیا ہوتا
وہ اگر ہوتا میرا ، کچھ وہ ایسا ہوتا
چاند سورج اسے دیکھ ابھرتا ہوتا
وہ جو محبوب میرا گھر سے نکلتا ہوتا
راہ کا ہر رہرو اسے غور سے تکتا ہوتا
کاش ہوتا تو میرا سب پہ یہ ظاہر ہوتا
تیری آنکھوں کو پڑھنے کا میں ماہر ہوتا

Rate it:
Views: 421
16 Oct, 2015
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL