یوں نہ اپنے آپ ہی سب راستے تبدیل کر
Poet: تکمیل ناصر By: تکمیل ناصر , Lahoreیوں نہ اپنے آپ ہی سب راستے تبدیل کر
جو بھی دے محبوب تجھ کو حکم کی تعمیل کر
مجھ کو تیرے لمس کی خواہش نے رکھا مضطرب
جان جاں مجھ کو تو اپنی روح میں تحلیل کر
چھوڑ دے کہنہ رواجوں کو سبھی بے سود ہے
ضابطہ زندگی کی اب نئی تشکیل کر
منتظر ہوں تیری خوشبو کا تیری تحریر کا
میرے قاصد کو مری جانب ابھی ترسیل کر
جو بھی ہو تیری رضا وہی مجھے منظور ہے
یا مجھے یکسر مٹا دے یا میری تکمیل کر
More Love / Romantic Poetry






