یُوں مجھ پے مرنا وہ میرے لئے

Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwala

گلی سے گزرنا وہ میرے لئے
سجنا سنورنا وہ میرے لئے

میں کیسے بھول جاؤں بے قراریاں
ہائے ہاہیں بھرنا وہ میرے لئے

گلی میں آنا ترا کسی بہانے
چھت پے چڑھنا وہ میرے لئے

مجھے دیکھ کے سنگ غیروں کے
ترا مجھ سے لڑنا وہ میرے لئے

ملنے کی جستجو دلِ بیتاب کو
ہجر سے ڈرنا وہ میرے لئے

ترا جیت جانا ہر بات میں
مگر پھر ہرنا وہ میرے لئے

جس بات سے روکے دنیا والے
ترا وہی کرنا وہ میرے لئے

مجھے کوئی بُرے جو کہہ بیٹھے
ترا اُس سے لڑنا وہ میرے لئے

مسکرانا میری خوشیوں پے
میرے غم جڑنا وہ میرے لئے

اِس قدر محبت کیوں کرتے ہو
ترا آگ پے چلنا وہ میرے لئے

کہی مار نہ ڈالے ترا پاگل پن
یوں مجھ سے مرنا وہ میرے لئے

مزاروں سے جانا نیازے دینا
سجدے سر دھرنا وہ میرے لئے

کتابیں چھوڑ کے اپنی زندگی کی
نام میرا پڑھنا وہ میرے لئے

تاریخ میں شامل ہو جائے گا
ترا عشق یُوں کرنا وہ میرے لئے

گجرات کی سوہنی کے جیسے جاناں
چناب میں ترنا وہ میرے لئے

نہال کے لئے
وہ میرے لئے

Rate it:
Views: 702
06 Nov, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL