یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو

Poet: م الف ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi, Karachi

ہے یہاں کون مرا آ کے سنبھالے مجھ کو
یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو

اس کی ان چالوں سے ہرگز بھی نہ بچ پایا میں
پھنس چکا ہوں یہاں اب کوئی نکالے مجھ کو

چھوڑ باتیں یہ گلے شکوے بھی اب رہنے دے
آج بے ساختہ سینے سے لگالے مجھ کو

اب کے جو سویا تو شاید ہی کبھی اٹھ پاؤں
آخری بار یہ کہتا ہوں جگا لے مجھ کو

غم کی شدت سے مری آنکھیں بھی بھر آئی ہیں
دیکھ حالت یہ مری پاس بلالے مجھ کو

میں شجر ہوں گھنا دوں گا تجھے سایہ اک دن
دیکھ لالچ میں کوئی کاٹ نہ ڈالے مجھ کو

یوں پریشاں نہ ہو ہمراز بنالے مجھ کو
دل میں اپنے تو بس اک بار بسالے مجھ کو

اب تو دشمن بھی مرے دوست بنے پھرتے ہیں
کوئی اپنا ہی کہیں مار نہ ڈالے مجھ کو

میں نے بس اپنی ہی باتوں کی دلیلیں دی ہیں
اور وہ دیتا ہے لوگوں کے حوالے مجھ کو

میں جو بکھرا ہوں تو بس یوں ہی پڑا رہنے دو
اب نہیں کوئی نئے سانچے میں ڈھالے مجھ کو

میری آنکھوں سے ٹپکتا ہے لہو بھی اکثر
اب تو ملتے ہیں کئی زخم نرالے مجھ کو

آخرش لوگوں کو ترس آہی گیا ہے مجھ پر
اب بچاتے ہیں وہی مارنے والے مجھ کو

اب ندامت سے جھکا رہتا ہے سر ارشیؔ کا
میرے اللہ تو گناہوں سے بچالے مجھ کو

Rate it:
Views: 685
26 Jun, 2019
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL