یہ تیری محبّت ہی تو ہے جومایوس نہیں ہونے دیتی

Poet: AbuAbdul By: Jamshed, Dubai

 بہت دل ہے کہ چھوڑ دوں بیچ رستے سفر اپنا
ناکامیوں کی اداسی بہت رلاتی مجھ کو مگر
یہ تیری محبّت ہی تو ہے جومایوس نہیں ہونے دیتی

میں جتنا بھی ٹوٹ کے بکھروں
چاہے ہاروں میں جتنی بار مگر
یہ تیری چاہت ہی تو ہے جومایوس نہیں ہونے دیتی

بہت ہمّت سے کرتا ہوں اکھٹا خود کو
گرچہ سمیٹنا ہوتا ہے بہت مشکل مگر
یہ تیری اداسی ہی تو ہے جومایوس نہیں ہونے دیتی

بہت مشکل ہے ناکامی کے درد کو سہنا
ایک ایک کر کے سب کا چھوڑتے جانا مگر
یہ تیری توجه ہی تو ہے جومایوس نہیں ہونے دیتی

بہت عام سا ہو جاتا ہے رویہ سب کا
آنکھیں پھیر لیتے ہیں سب اپنے مگر
یہ تیری نظریں ہی تو ہے جومایوس نہیں ہونے دیتی

مجھے پتا ہے کہ اب کی بار میں ہی جیتوں گا
ڈر تو ہے پھر سے قدم اٹھانے کا مگر
یہ تیری دعا ہی تو ہے جومایوس نہیں ہونے دیتی
 

Rate it:
Views: 481
21 Jul, 2015
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL