یہ تیری چاند سی آنکھیں
Poet: Rukhsana Kausar By: Rukhsana Kausar, Jalal Pur Jattan, Gujratیہ تیری چاند سی آنکھیں
حسین اک شام سی آنکھیں
کہ ان سے پیا ر سے برستا ہے
کوئی اقرار برستا ہے
محبت کا یہ درپن ہیں ، چاہت کا یہ جوبن ہیں
محبت کا اک سمندر ان سے بہتا ہے
کوئی اِن کے پیچھے تم سے بڑا ہی پیا ر کرتا ہے
نہیں یہ عام سی آ نکھیں
یہ تیری چاند سی آنکھیں
حسین اک شام سی آنکھیں
جنونِ عشق اور محبت کی آخری حد تک
میرے دل کی سر زمیں پر یہ آ نکھیں راج کرتی ہیں
مجھے بے تاب کرتی ہیں
تیری بے تاب سی آنکھیں
یہ تیری چاند سی آنکھیں
حسین اک شام سی آنکھیں
پیار تھا انہیں بھی کسی سے شاید
بہت اعتبا ر تھا شاید
دیوانے پن میں بھولی تھیں ۔۔۔یہ آنکھیں رو بھی سکتی ہیں
بہت ہی رو چکی یہ تو ۔۔۔اُسی اعتبار میں شاید
محبت ہو چلی مجھ کو ۔۔۔۔ان بے ربط آنکھوں سے
مجھے اِن کو منانا ہے تیری یہ روٹھی سی آنکھیں
یہ تیری چاند سی آنکھیں
حسین اک شام سی آنکھیں
مچل جاتی ہو ں دیکھ کر اِن کو
جیسے روٹھا ہوا بچہ ، محبت کے لئے تڑپے
سنو
مجھے گنوانا نہیں ان کو
یہ آدھی رات سی آنکھیں
مجھے بے چین کرتی ہیں
تیری بے چین سی آنکھیں
یہ تیری چاند سی آنکھیں
حسین اک شام سی آنکھیں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






