یہ دل کا عجب حال تماشا ہے کہ تم ہو

Poet: اےبی شہزاد By: Ab Shahzad, Ali wah

یہ دل کا عجب حال تماشا ہے کہ تم ہو
ہر خواب کا حاصل، لبِ دریا ہے کہ تم ہو

اس عہدِ وفا میں مرا اک ہی تو بھروسہ
جینے کا مری جاں یہ سہارا ہے کہ تم ہو

بیتا ہوا ہر درد زمانے سے چھپا کر
میں نے یہی سمجھا، مرا کیا ہے کہ تم ہو

ہر موڑ پہ تقدیر نے روکا ہے مگر اب
جینے کا مرے ایک ارادہ ہے کہ تم ہو

پتھر کی فصیلوں سے جو پھوٹی ہے محبت
وہ پیار کا اک نیلگوں جھرنا ہے کہ تم ہو

ویران شبوں میں جو اجالوں سا لگا ہے
آنکھوں کو ملا ایسا ستارا ہے کہ تم ہو

میں ڈھونڈتا پھرتا ہوں اندھیروں میں اجالا
اس نور کا پہلا سا حوالہ ہے کہ تم ہو

شہزادؔ مرے شعر کی توقیر بھی تم سے
الفاظ نے خود مجھ سے بتایا ہے کہ تم ہو

Rate it:
Views: 0
27 Jun, 2026
More Love / Romantic Poetry