یہ دنیا دشتِ ویراں ہے بنا تیرے میرے ہمدم
Poet: حفضہ اقبال By: حفضہ اقبال , Gujranwalaیہ دنیا دشتِ ویراں ہے بنا تیرے میرے ہمدم
جو آے خزاں سی ویرانی بن کے بہار تم آنا
یہاں قدم قدم پر ہیں پہرے ہجر دغا وحشت کے
جو رخ ہو میری طرف اِنکا بن کے ڈھال تم آنا
یہاں سنا ہے لوگ غم میں کلام چھوڑ دیتے ہیں
جو اتریں خاموشیاں مجھ پر بن کے آواز تم آنا
یہاں جو صنفِ نازک ہےخوابوں میں ہےکھوئی رہتی
جو دیکھوں خواب میں کوئی بن کے تعبیر تم آنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






