وفاؤں کے سفر پر

Poet: حفضہ اقبال By: حفضہ اقبال , Gujranwala

وفاؤں کے سفر پر
تھک گیا تھا وہ بھی
تھک گئ تھی میں بھی

جو ہاتھ چُھوٹے تھکن پر
ٹوٹ چُکا تھا وہ بھی
ٹوٹ چُکی تھی میں بھی

صبر تھا لازم سو ہم کرتے رہے
جب تک تھا شکستہ وہ بھی
شکستہ تھی میں بھی
سانس چلتی تھی بوجھ نہ تھی
جب تک ہجر پہ روتا تھا وہ بھی
ہجر پہ روتی تھی میں بھی

پھر سب بدلنے لگا
وہ گِرا سِمٹا اُبھر گیا
میں گِرا نہ سمبھلا بکھر گیا
وقت گزرتا صدیوں نُما هو گیا
وہ کتنوں کے جینے کی وجہ هوگیا

میں اب بھی وفاؤں کے سفر پر
وہ بھی، میں بھی کی
پڑھتی رہتی ہوں تسبیح
مگر ہیں دانے بکھر گئے
وفا کے دھاگے اُلجھ گئے
"وہ" کے دانے نہیں ملتے

میں "میں" کو وہاں پروتی ہوں
یوں دن سے رات ہوتی ہے
کبھی 'میں'کبھی 'وہ' بن جاتی ہوں
وفاؤں کے سفر پر
بے وجہ ھی چلتی جاتی ہوں
 

Rate it:
Views: 1382
15 Nov, 2021
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL