یہ رشتہ “میں“ یا “تو“ سے بڑھ کے جب تک “ہم“ نہیں ہو گا
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillیہ مانا بن تمہیں دیکھے بھی دم میں دم نہیں ہو گا
مگر دیدار کا لمحہ بھی اس سے کم نہیں ہو گا
کدھر کی آس کہ جو آپ پر مرکوز نہ ہو گی
کہاں کا پھول کہ جو طالب شبنم نہیں ہو گا
خدا وہ وقت بھی لائے گا میرے دیس میں جاناں
کہیں دہشت نہیں ہو گی کہیں ماتم نہیں ہو گا
تھکے لمحو کہا تھا ناں؟ کہ میرے ساتھ نہ چلنا
یہ رستہ خار ہو گا اطلس و ریشم نہیں ہو گا
اڑے گا اور آب و تاب سے افلاک میں دیکھو
ہوا سے سرنگوں یہ شوق کا پرچم نہیں ہو گا
مجھے معلوم ہے اتنی بھی کیسی بے یقینی ہے
بجز تیرے کسی کے آگے یہ سر خم نہیں ہو گا
اے راز رازداناں آج تو پردہ کشائی ہو
یہ داغ ہجر ہے باتوں سے تو مدھم نہیں ہو گا
جئیں گے اس طرح کہ موت بھی نظریں چرائے گی
مریں گے اس طرح کہ زندگی کا غم نہیں ہو گا
تو پھر یہ طے ہے کہ تب تک ہمیں گردش میں رہنا ہے
یہ رشتہ“میں“ یا “تو“ سے پڑھ کے جب تک “ہم “ نہیں ہو گا
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ






