یہ لفظ درد میں نکلے صدا نہ بن جائیں
Poet: zaigham jaffery By: zaighm jaffery, Daskaیہ لفظ درد میں نکلے صدا نہ بن جائیں
تمہارے واسطے ڈر ہے سزا نہ بن جائیں
نہ اتنی چاہ سے مجھ کو پکارئیے جاناں
کیفیتوں میں کہیں ہم خدا نہ بن جائیں
نہ جانے خوف ہے کیوں پہلے کی طرح مجھ سے
جو دیر بعد ملے ہیں جدا نہ ہو جائیں
یہ جی تو کرتا ہے سب کو بتائوں درد اپنے
مگر یہ ڈر ہے کہیں وہ خفا نہ ہو جائیں
تمہارے روز کے الزامِ بے وفائی سے
جو تنگ آ کے صنم بے وفا نہ ہو جائیں
اسی لئے ہے سخن سے وابستگی ہم کو
جگر کے زخم کہیں لا دوا نہ بن جائیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






