خواہشِ دل، خواہش جاں، آرزو کچھ بھی نہیں
Poet: zaigham jaffery By: zaighm jaffery, Daskaخواہشِ دل، خواہش جاں، آرزو کچھ بھی نہیں
تُو نہیں تو چار سُو کچھ بھی نہیں
سونی سونی ہیں دیواریں اور دل مایوس ہے
میرا سجنا اور سنورنا گفتگو کچھ بھی نہیں
تیرے دل میں گھر کروں یہ شوق ہے اور جانِ جاں
اپنی تو اس کے علاوہ جستجو کچھ بھی نہیں
وہ ہی انساں وہ ہی باتیں اور دنیا بھی وہی
ساری چیزیں ہیں وہی اور ہوبہو کچھ بھی نہیں
پیار تو بس پیار ہے اور پیار میں جانِ ادا
ذات، مذہب درحقیقت رنگ و بُو کچھ بھی نہیں
جو لکھا اہلِ ادب ، اہلِ بیاں نے جعفری
سامنے اس کے تمہارا یہ لہو کچھ بھی نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






