یہ وادیاں یہ فضائیں بلا رہی ہیں تمہیں
Poet: فلک By: فلک, Quettaیہ وادیاں یہ فضائیں بلا رہی ہیں تمہیں
خموشیوں کی صدائیں بلا رہی ہیں تمہیں
ترس رہے ہیں جواں پھول ہونٹ چھونے کو
مچل مچل کے ہوائیں بلا رہی ہیں تمہیں
تمہاری زلفوں سے خوشبو کی بھیک لینے کو
جھکی جھکی سی گھٹائیں بلا رہی ہیں تمہیں
حسین چمپئی پیروں کو جب سے دیکھا ہے
ندی کی مست ادائیں بلا رہی ہیں تمہیں
مرا کہا نہ سنو ان کی بات تو سن لو
ہر ایک دل کی دعائیں بلا رہی ہیں تمہیں
More Love / Romantic Poetry






