یہاں کی دھوپ مجھے چھاؤں جیسی لگتی ہے

Poet: Azra Naz By: Azra Naz, UK

یہاں کی دھوپ مجھے چھاؤں جیسی لگتی ہے
کہ یہ گلی تو ترے گاؤ ں جیسی لگتی ہے

یہ ننھے ہاتھوں میں کِس نے تھما دیا کشکول ؟
تمہاری شکل تو راجاؤں جیسی لگتی ہے

سنا ہے میں نے وہ لڑکی نییٔ سہاگن ہے
تو کیوں وہ شکل سے بیوأوں جیسی لگتی ہے ؟

ہو کویٔ ملک ، زباں یا کویٔ بھی ہو تہذیب
ہر ماں ہی سبھی ماؤں جیسی لگتی ہے

ضروُر اس میں چھپا ہے کویٔ بڑا طوُفان
تِری خموشی جو دریاؤں جیسی لگتی ہے

تو کیا یہ سچ ہے تجھے آرزوُ ہے چاہت کی ؟
یہ آرزوُ مِری آشاؤں جیسی لگتی ہے

 

Rate it:
Views: 697
27 Nov, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL