ﭘﺎﻧﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﻻﯾﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ

Poet: By: Shahid Hasrat, Multan

ﭘﺎﻧﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﻻﯾﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ
ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺟﻠﺘﺎ ﺷﮩﺮ ﺑﭽﺎﯾﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ

ﺍﯾﮏ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﻣﺤﺒﺖ
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﭼﻼﯾﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ

ﺩﻝ ﭘﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯿﻨﮯ ﺁﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻣﯿﺪﯾﮟ
ﺍﺱ ﭼﺸﻤﮯ ﻣﯿﮟ ﺯﮨﺮ ﻣﻼﯾﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ

ﻣﺠﮫ ﺑﺪﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻓﺮﮨﺎﺩ ﻭ ﻣﺠﻨﻮﮞ
ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﺎ ﻧﺎﻡ ﮐﻤﺎﯾﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ

ﯾﮧ ﻣﮩﺘﺎﺏ ﯾﮧ ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﭘﯿﺸﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﮔﮭﺎﺅ
ﺍﯾﺴﺎ ﺯﺧﻢ ﺗﻮ ﺩﻝ ﭘﺮ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ

ﭘﮭﭩﺎ ﭘﺮﺍﻧﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ حسرت
ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺁﭖ ﭼﮭﭙﺎﯾﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ

Rate it:
Views: 609
25 Oct, 2018
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL