ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺷﺨﺺ ﺳﮯﮔﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ,
Poet: ساحر نواز By: Sahir Nawaz, MirPur Sakro Sindh Thattaﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺷﺨﺺ ﺳﮯﮔﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮒ ﺗﻮ ﺗﻘﺪﯾﺮ ﺳﮯ ﻣﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
ﮬﺮ ﮐﺴﯽ ﺑﺎﻍ ﮐﺎ ﻧﺼﯿﺐ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ
ﮬﺮ ﮐﺴﯽ ﮈﺍﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﻼﺏ ﮐﮭﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
ﺗﻮ ﺧﻮﺵ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﮯ ﮐﮯ ﺗﻮ ﭼﺎﻧﺪﻧﯽ ﮨﮯ
ﻭﺭﻧﺎ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﺿﯿﺎ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﯿﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
ﻭﮦ ﻗﯿﺲ ﻟﯿﻼ ﮬﯿﺮ ﺭﺍﻧﺠﮭﺎ ﺗﮭﮯ ﺩﯾﻮﺍﻧﮯ
ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﺜﺎﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﺏ ﻟﻮﮒ ﭼﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
ﺍﺏ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺳﺎﺣﺮ
ﮐﮯ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮐﻮ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL






