ﺗﻮﮞ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺧﻂ ﻧﮧ ﻟﮑﮭﻨﺎ ﺻﺒﺎﺀ
Poet: ساحر نواز By: Sahir Nawaz, MirPur Sakro Sindh thattaﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺪ ﮨﻮﺵ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﺻﺒﺎﺀ
ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﻧﮧ ﺁﻧﺎ ﺻﺒﺎﺀ
ﺗﯿﺮﺍ ﮨﯽ ﮐﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺯﮐﺮ ﮬﺮ ﺩﻡ
ﺗﻮﮞ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺧﻂ ﻧﮧ ﻟﮑﮭﻨﺎ ﺻﺒﺎﺀ
ﻣﭩﺎ ﮨﯽ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﯿﺮﺍ ﺍﺭﻣﺎﻥ ﻣﯿﮟ
ﻣﺮﮮ ﻣﺮﺟﺎﻧﮯﮐﺎﺍﺭﻣﺎﻥ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎﺻﺒﺎﺀ
ﺟﻮ ﺗﯿﺮﺍ ﺩﯾﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
ﺍﺏ ﺗﻮﮞ ﺑﮭﯽ ﭼﮩﺮﺍ ﻧﮧ ﭼﮩﭙﺎﻧﺎﺻﺒﺎﺀ
ﻭﮦ ﻣﺤﺸﺮ ﮐﮯ ﺭﻭﺯ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﺳﻮﺍﻝ
ﺍﺳﯽ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﻨﺎ ﺻﺒﺎﺀ
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺷﺎﯾﺪ ﺳﺎﺣﺮ ﮐﻮ ﺭﺍﺱ ﻧﺎﺁﺋﯽ
ﮐﯿﺎﮐﮩﻮﮞ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺻﺒﺎﺀ
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL






