ﮐﻮﻥ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﻭﺯ ﭘﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, میانوالیﮐﻮﻥ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﻭﺯ ﭘﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺳﭻ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺪﮨﻮﺵ ﺭﮨﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻥ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﻏﻨﻮﺩﮔﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ
ﺍﭘﻨﯽ ﻏﺮﺑﺖ ﮐﮯ ﺟﻮ ﮔﮭﻮﻧﭧ ﭘﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﮐﻮﺉ ﺑﺘﻼﮰ ﻧﺎ
ﺍﺳﯽ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﮭﻼ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﻣﯿﺮﯼ ﻋﺎﺩﺕ ﮨﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻼﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﭼﺮﺍﻍ
ﯾﮧ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺁﻧﮕﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﻨﺎﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﻭﮦ ﻗﻮﻡ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺮ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﯽ ﺗﺮﻗﯽ
ﺟﺲ ﻗﻮﻡ ﺳﮯ ﺑﺎﺷﻨﺪﮮ ﺩﻏﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺑﺎﻗﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺮﻗﺪ ﭘﮧ ﯾﮧ ﻟﮑﮭﺎ ﮐﺲ ﻧﮯ
ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﺗﻮ ﻣﺮ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﺟﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL






