ﺑﺎﺭﺵ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺭﻭﺯ ﻧﮩﺎﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﺏ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, میانوالیﺑﺎﺭﺵ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺭﻭﺯ ﻧﮩﺎﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﺏ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﮭﯿﻠﺘﮯ ﮐﮭﯿﻠﺘﮯ ﻭﮦ ﻟﮍ ﺟﺎﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﺏ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ
ﮔﺮ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﻞ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺍﮎ ﺩﻭﺟﮯ ﮐﻮ
ﺑﺎﺕ ﺍﺷﺎﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺎﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﺏ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ
ﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﭘﮩﺮ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ
ﺭﻭﺯ ﺗﯿﺮﺍ ﻭﮦ ﭼﮭﺖ ﭘﮧ ﺁﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﺏ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﯿﺴﮯ ﮔﺰﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺍﮎ ﺩﻭﺟﮯ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ
ﺍﮎ ﺩﻭﺟﮯ ﮐﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﻨﺎﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﺏ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ
ﭼﻮﻡ ﻧﺎ ﻟﻮﮞ ﭘﮭﺮ ﮨﻮﻧﭧ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮱ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺗﯿﺮﺍ
ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺠﮭﺎﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﺏ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ
ﺑﭽﭙﻦ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺑﺎﻗﺮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺗﻮ ﯾﺎﺩ ﺁﺗﯽ ﮨﯿﮟ
ﮐﯿﺴﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﺏ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






