ﺑﺎﺭﺵ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺭﻭﺯ ﻧﮩﺎﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﺏ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, میانوالیﺑﺎﺭﺵ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺭﻭﺯ ﻧﮩﺎﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﺏ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﮭﯿﻠﺘﮯ ﮐﮭﯿﻠﺘﮯ ﻭﮦ ﻟﮍ ﺟﺎﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﺏ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ
ﮔﺮ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﻞ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺍﮎ ﺩﻭﺟﮯ ﮐﻮ
ﺑﺎﺕ ﺍﺷﺎﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺎﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﺏ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ
ﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﭘﮩﺮ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ
ﺭﻭﺯ ﺗﯿﺮﺍ ﻭﮦ ﭼﮭﺖ ﭘﮧ ﺁﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﺏ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﯿﺴﮯ ﮔﺰﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺍﮎ ﺩﻭﺟﮯ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ
ﺍﮎ ﺩﻭﺟﮯ ﮐﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﻨﺎﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﺏ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ
ﭼﻮﻡ ﻧﺎ ﻟﻮﮞ ﭘﮭﺮ ﮨﻮﻧﭧ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮱ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺗﯿﺮﺍ
ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺠﮭﺎﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﺏ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ
ﺑﭽﭙﻦ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺑﺎﻗﺮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺗﻮ ﯾﺎﺩ ﺁﺗﯽ ﮨﯿﮟ
ﮐﯿﺴﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﺏ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL






