ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻧﯿﻨﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﺧﺰﺍﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺣﺮﺍﺭﺗﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ

Poet: Ahsin Fayaz By: Ahsin Fayaz, Badin

ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻧﯿﻨﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﺧﺰﺍﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺣﺮﺍﺭﺗﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ
ﻭﮦ ﺑﮩﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻟﭩﮏ ﺳﮯ ﺭﻓﺎﻗﺘﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ
ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ، ﮔﻮﻧﮕﮭﭧ ﮐﮯ ﺳﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﺟﻮ ﺭﻧﮓ ﻣﻮﺳﻤﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﺪﻟﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﺟﻮ ﺍﻣﻨﮓ ﺁﮨﭩﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﭽﻠﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﺟﻮ ﺭﺍﺕ ﮐﺎ ﭘﮩﻠﻮ ﺑﺪﻻ
ﮐﮩﯿﮟ ﺁﺛﺎﺭ ﺟﻮ ﺭﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ
ﮐﺒﮭﯽ ﺟﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ
ﮐﮩﯿﮟ ﮬﻨﺴﺘﮯ ﻟﺒﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﺮﺍﺭﺕ ﺑﮑﮭﺮ ﺟﺎﺋﮯ
ﮐﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﺒﮭﯽ ﻟﻮﭦ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﺎ ﺁﺋﮯ
ﺳﻮﭺ ﮐﮯ ﻣﻨﺎﻇﺮ ﺟﻮ ﭘﻠﮑﻮﮞ ﭘﮯ ﭼﮭﻠﮏ ﺁﺋﯿﮟ
ﭘﮭﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﻨﮏ ﺟﺎﺋﯿﮟ
ﺍﯾﺴﯽ ﮨﯽ ﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﺎﺯﺷﻮﮞ ﺳﮯ ﻋﺪﺍﻭﺗﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ
ﮐﭽﮫ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﯾﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺳﯿﻮﮞ ﺗﻠﮯ
ﻭﮦ ﭼﮭﻮﮌ ﮔﯿﺎ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﻟﻤﺤﮯ
ﭘﮭﺮ ﺟﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﺰﻡ ﺗﮭﮯ ﻣہکے ﮨﻮئے
ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﻮﺍﻧﮯ ﺗﮭﮯ ﺳﮩﻨﮯ ﮨﻮئے
ﭘﮭﺮ ﮔﮭﻠﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﮬﻮﺍﺋﯿﮟ ﮬﺠﺮ ﮐﯽ
ﭘﮭﺮ ﭼﺮﺍﻍ ﺟﻠﮯ ﻃﻮﻓﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ
ﭘﮭﺮ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﻟﮕﺎ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﺳﺒﻖ ﭘﺮ
ﭘﮭﺮ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﺑﺮﺍﺭ ﮐﯽ ﺍﻓﻖ ﭘﺮ
ﮐﭽﮫ ﯾﺎﺩﯾﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﻣﺤﻠﻮﻝ ﮨﻤﺎﺭﯼ
ﮐﭽﮫ ﮨﻢ ﮨﯽ ﺗﮭﮯ ﺑﮩﮑﮯ ﮨﻮئے
ﭘﮭﺮ ﮨﻢ ﮨﻮﮮ ﻣﺬﮐﻮﺭﺍ ﮨﻢ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻭﮦ ﻋﺎﺩﺗﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ
ﭘﮭﺮ ﻧﺎ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺧﻠﺶ ﭘﮍﯼ
ﺍﯾﮏ ﭼﮩﺮﮮ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﮬﻮﻝ ﺍﮌﯼ
ﮐﭽﮫ ﺩﻧﺪﮬﻠﮯ ﺳﮯ ﻋﮑﺲ ﮈﮬﻠﮯ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﭘﮭﺮ ﻧﻘﺶ ﺑﻨﮯ ﮐﭽﮫ ﺯﺧﻤﻮﮞ ﮐﮯ
ﭘﮭﺮ ﺭﺍﺗﯿﮟ ﺯﻧﺪﺍﻥ ﺑﻨﯽ
ﭘﮭﺮ ﺫﯾﺸﺎﺅﮞ ﻧﮯ ﺭﻭﭖ ﺩﯾﺌﮯ
ﺳﺮﺩ ﮬﻮﺍﺋﯿﮟ ﻧﺎﺩﺍﻥ ﺑﻨﯽ
ﮐﭽﮫ ﭘﻞ ﺍﺳﻨﮯ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﺩﯾﺌﮯ
ﮐﭽﮫ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﮨﯽ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﺭﮨﮯ
ﮐﭽﮫ ﻏﺎﻟﺐ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺧﺎﮎ ﺭﮨﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﯾﺎﺭ ﮐﮯ ﻭﺻﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻨﺎﯾﺘﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ
ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻧﯿﻨﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﺧﺰﺍﻧﻮﮞ ﺳﮯﺣﺮﺍﺭﺗﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ

Rate it:
Views: 475
01 Jun, 2019
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL