ﻣﺤﺒﺖ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﻮ ﺗﻢ ﺗﻮﮌ ﮐﮯ ﻻﻭ
Poet: By: Rania Ch, Lahoreﻣﺤﺒﺖ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﻮ ﺗﻢ ﺗﻮﮌ ﮐﮯ ﻻﻭ
ﻣﺤﺒﺖ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﻣﺎﻧﮓ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺮ ﺩﻭ
ﻣﺤﺒﺖ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﻋﺪﮮ ﮐﺮ ﻟﻮ ﺳﺎﺕ ﺟﻨﻤﻮﮞ ﮐﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﭘﮭﻮﻝ ﺭﺍﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﮭﺎ ﺩﻭ ﺗﻢ
ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺟﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﺗﮭﺎﻣﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﻧﮧ ﺩﯾﻨﺎ
ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻗﻠﺐِ ﺟﺎﻥ ﮐﻮ ﺗﻢ ﺗﻮﮌ ﻧﮧ ﺩﯾﻨﺎ
ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﺳﮯ ﻣﻨﮧ ﻣﻮﮌ ﻧﮧ ﻟﯿﻨﺎ
ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺟﮭﮕﮍﻭ ﻟﮍﻭ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﭨﮫ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻭ
ﺳﺘﺎ ﮐﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﭘﮭﺮ ﻣﻨﺎ ﻟﯿﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺁﺗﺎ ﮨﻮ
ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺳﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺳﮑﺘﺎ ﮐﮧ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ
ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺳﺎﻧﺲ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻔﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﮐﺮﺩﻭﮞ ﮔﺎ
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻻﮈ ﻧﺎﺯ ﻭ ﻧﺨﺮﮮ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﻣﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﻭﮞ ﮔﺎ
ﺯﻣﺎﻧﮯ ﺑﮭﺮ ﮐﯽ ﻧﻔﺮﺕ ﺳﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮨﺮ ﭘﻞ ﭼﮭﭙﺎﺅﮞ ﮔﺎ
ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ ﮐﮩﻮﮞ ﯾﺎ ﻧﮧ ﮐﮩﻮﮞ ﻟﯿﮑﻦ
ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺘﻨﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﮐﮭﺎﻭﮞ ﮔﺎ
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL







