کیا پاک بھارت جنگ کو غزوہ ہند کہا جاسکتاہے؟

سیدی رسول اللہ ﷺ نے جس غزوۂ ہند کی ہمیں بشارت عطاء فرمائی تھی اب ہم اس میں داخل ہوچکے ہیں۔

یہ الفاظ ہیں زید زمان حامد کے جو ایک خود ساختہ دفاعی تجزیہ کار اور پاکستان میں دائیں بازو کے شعلہ بیاں مقرر ہیں۔ اپنی فیس بک وال پر 31 اگست کو پوسٹ کی گئی ویڈیو میں وہ ایک بندوق اٹھائے دکھائی دے رہے ہیں، ایسے جیسے ابھی فوراً ہی غزوۂ ہند کیلئے نکل پڑیں گے۔ ان کی یہ ویڈیو اب تک فیس بک پر تقریباً 13لاکھ لوگ دیکھ چکے ہیں۔

زید حامد ویڈیو میں مزید کہتے ہیں کہ:”نریندر مودی نے، ہندوستان کے مشرکوں نے کشمیر کے ساتھ جو کچھ کیا ہے اس کے بعد اب کسی کیلئے بھی شک کی گنجائش نہیں ہے کہ آنے والے وقتوں میں غزوۂ ہند کا آخری معرکہ مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان لڑا جائیگا”۔

 

 

زید حامد وہ واحد شخص نہیں جو غزوۂ ہند اور پاکستان و بھارت کے درمیان ہونے والی ممکنہ جنگ کے بارے میں لوگوں میں جوش و ولولہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 5اگست کو ہندوستان کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے جانے کے بعد سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر غزوۂ ہند کے تذکرے بڑے تواتر سے کئے جارہے ہیں۔

علی محمد خان جو کہ وزیراعظم عمران خان کی کابینہ میں ایک وزیر ہیں، نے پارلیمنٹ میں اپنی ایک تقریر کے دوران انتہائی جوشیلے انداز میں فرمایا کہ ” یہ ایٹم بم ہم نے کھیل تماشے کے لئے نہیں بنائے”۔

انہوں نے مزید کہا کہ: “پاکستان تو رہنا ہی تاقیامت ہے، انہوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ ختم کب ہونا ہے کیونکہ جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی حدیثوں کے مفہوم کے مطابق غزوۂ ہند تو ہونی ہی ہونی ہے”۔

یہاں تک کہ پاکستانی اداکارہ وینا ملک بھی غزوۂ ہند کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اس سے متعلق ٹویٹر پر حدیث کا حوالہ دیتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

سماء ڈیجیٹل کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں وینا ملک کہتی ہیں کہ “اگر آپ ہمارے علماء اور تاریخ کو اٹھاکر دیکھیں تو غزوۂ ہند کا ذکر بہت جگہ ملے گا، یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک پوائنٹ ایسا آتا ہے کہ مسلمانوں کو تلوار اٹھانا اور جنگ کرنا ہی پڑی”۔

 

کراچی میں مقیم دیوبند مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے مولانا طارق مسعود نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ’غزوۂ ہند‘ سے متعلق ایک انتہائی ’بے غبار‘ حدیث موجود ہے جس کے راوی حضرت ثوبانؓ ہیں۔ اس حدیث کا مفہوم یہ ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’میری امت میں دو گروہوں پر جہنم کی آگ حرام قرار دی گئی ہے۔ ایک گروہ وہ جو ہند میں لڑائی لڑے گا اور دوسرا گروہ وہ جو حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا ساتھ دے گا‘‘۔ (النسائی 28:3، 4382)

تاہم مولانا طارق مسعود یہ بھی کہتے ہیں کہ اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے اکثر لوگ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہند کا لفظ صرف موجودہ ہندوستان کے لئے استعمال نہیں ہوتا تھا بلکہ اس زمانے میں پاکستان، بنگلہ دیش اور برما بھی ہندوستان میں شامل تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حساب سے کبھی کوئی پاکستان پر حملہ کرکے بھی کہہ سکتا ہے کہ یہ غزہ ہند ہے۔

مولانا طارق مسعود نوجوانوں میں کافی مقبول ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے بیانات سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں شئیر کئے جاتے ہیں۔

مولانا طارق مسعود کہتے ہیں لوگ اکثر فیس بک پر بغیر حوالوں کے احادیث شیئر کردیتے ہیں جو کہ ان کے نزدیک صحیح عمل نہیں ہے۔ ان کا مشورہ یہ ہے کہ احادیث کو آگے بڑھانے سے پہلے کسی عالم سے تصدیق کرلینی چاہیے۔

مولانا صاحب کا کہنا ہے کہ اوپر بیان کی گئی حدیث کو اکثر لوگ ایک اور حدیث سے ملادیتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ خراسان جو کہ موجودہ افغانستان، ایران اور پاکستان پر مشتمل تھا وہاں سے ایک لشکر اٹھے گا، جس کے ہاتھوں میں سیاہ پرچم ہوں گے اور وہ ہندوستان کے حکمرانوں کو زنجیروں میں جکڑنے کے بعد شام جاکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لشکر میں شامل ہوجائے گا۔

 

 

تاہم اس حدیث کے حوالے سے علمائے کرام میں اختلاف رائے موجود ہے۔ مولانا طارق مسعود کے مطابق یہ ایک ’’ضعیف‘‘ حدیث ہے۔

اقراء یونیورسٹی کے لیکچرار مفتی فیصل جاپان والا کے مطابق غزوۂ ہند پہلے بھی ہوچکی ہے۔

ان کا ماننا ہے کہ افغان فاتح محمود غزنوی اور عرب کمانڈر محمد بن قاسم کے ہندوستان پر حملے بھی غزوۂ ہند کا حصہ تھے۔

مذہبی اسکالر ڈاکٹر خالد ظہیر، جو کہ یونیورسٹی آف ویلز سے پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھتے ہیں، کہتے ہیں کہ غزوۂ ہند کب ہوگی اس حوالے سے کہیں بھی وقت کا واضح طور پر تعین نہیں کیا گیا۔

 

شدت پسند گروہوں کی جانب سے مقدس تحریروں کا استعمالدنیا میں موجود شدت پسند تنظیمیں بھی اکثر اپنی کارروائیوں کو جائز ثابت کرنے کے لئے مختلف آیات اور احادیث کا سہارا لیتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

محکمہ انسداد دہشتگردی کے ایک افسر کہتے ہیں کہ انہوں نے غزوۂ ہند سے متعلق کئی حوالے سنے ہیں، جس میں سے ایک یہ ہے کہ مسلمان ہند پر حملہ کریں گے اور وہاں کے حکمرانوں کو زنجیروں میں جکڑ لیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ مذہبی حوالے لوگوں کی ذہن سازی کرنے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں جب بھی پاکستان اور ہندوستان کے درمیان حالات کشیدہ ہوتے ہیں۔ محکمہ انسداد دہشتگردی کے افسر کا مزید کہنا ہے کہ یہ مقدس حوالے لوگوں کو تنظیموں میں بھرتی کرنے کے لئے بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔

جبکہ مذہبی اسکالرز کا ماننا ہے کہ کوئی بھی گروہ یا فرد کسی کے بھی خلاف جہاد کرنے کا اعلان اپنے تئیں نہیں کرسکتا۔

ڈاکٹر خالد مسعود کے مطابق جہاد کا اعلان اگر حکمران کرتے ہیں تو ان کی فوج لڑے گی اور پھر ہم لوگ ان کا ساتھ دیں گے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ کوئی فرد جہاد فی سبیل اللہ  خود سے کسی پر لازم نہیں کرسکتا، بلکہ جہاد فی سبیل اللہ کسی سپاہ سالار کے زیرسرپرستی ہی لڑا جاتا ہے۔

 

لیکن سچ تو یہ ہے کہ یہ سب تاویلیں دیئے جانے کے باوجود بھی خطے میں موجود شدت پسند تنظیمیں مذہبی تحریروں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتی ہیں۔

اس خطے میں شدت پسند تنظیموں پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار اور پاکستان انسٹٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر عامر رانا کہتے ہیں یہ سب (مذہبی حوالوں کا استعمال) برسوں سے چلتا آیا ہے، جب بھی کشمیر میں حالات خراب ہوتے ہیں غزوۂ ہند کا تذکرہ ضرور سنائی دیتا ہے۔

 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.