سی سیکشن ایک آپشن یا ضرورت؟

Getty Images

’میں سی سیکشن کو بہت آسان سمجھ رہی تھی۔ مجھے لگا کہ یہ تو کچھ دنوں کی بات ہے۔ لیکن سی سیکشن کے بعد جب میں باقاعدہ بیڈ پر آ گئی اور نرس آ کر میرے لیے میرا بیڈ اوپر نیچے کرتی تھی، یہاں تک کہ میں ہل نہیں سکتی تھی، تو مجھے لگا میری زندگی ختم ہو گئی ہے۔‘

کراچی سے تعلق رکھنے والی حبیبہ خان سکوائش کی کھلاڑی ہیں اور حالیہ دنوں میں پشاور میں ہونے والے ایک میچ میں گولڈ میڈل بھی جیت چکی ہیں۔

اُن کے لیے سب سے بڑی مشکل اُس وقت بنی جب اُن کے بیٹے کی پیدائش کے بعد انھیں چھ ماہ آرام کرنا پڑا جبکہ سی سیکشن کے بعد ڈاکٹر زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کا آرام کہتے ہیں۔ لیکن یہ بھی ہر کیس میں مختلف ہوتا ہے۔

حبیبہ ان خواتین میں سے ہیں جو پاکستان میں آپریشن کے ذریعے بچے کو جنم دیتی ہیں۔ جسے عام استعمال ہونے والی میڈیکل کی زبان میں سی سکیشن کہتے ہیں۔

سی سیکشن بچے کو جنم دینے کے عمل کا ایک طریقہ ہے جو سرجری کے ذریعے کیا جاتا ہے

اس بارے میں ڈاکٹر ثمرینہ نے کہا کہ پاکستان میں کسی خاتون کو سی سیکشن کرانا چاہیے یا نہیں، یہ حق ڈاکٹر کے پاس ہوتا ہے یا لڑکی کے سُسرال کے پاس۔

’ہماری تو کوشش ہے کہ ہم دائی کو ٹرین کرکے یہ حق دیں کہ وہ خواتین کے ان فیصلوں میں مدد کر سکیں تاکہ ہسپتال آنے سے پہلے لڑکیاں یہ فیصلہ کر کے آئیں۔‘

سی سیکشن کمائی کا ذریعہ، پاکستان میں سی سیکشن کی صورتحال کیا ہے؟

پچھلے سال مارچ میں برطانوی سائنسی جریدے لینسٹ کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں ہر سال تقریباً تین لاکھ خواتین سی سیکشن کے نتیجے میں اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔

لینسٹ میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے لیے کم اور درمیانی آمدن والے 67 ممالک سے ایک کروڑ بیس لاکھ حاملہ خواتین کے ڈیٹا کی جانچ کی گئی جس کے مطابق ہر ایک ہزار سی سیکشنز میں تقریبا آٹھ خواتین ہلاک ہو جاتی ہیں۔

پاکستان میں سی سیکشن کمائی کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔

کراچی میں سنہ 2009 سے لے کر سنہ 2013 تک کے عرصے میں ڈاکٹرز نے سی سیکشن کو بچہ جنم دینے کا طریقہ سمجھنے سے گریز کرنے کا کہا ہے کیونکہ ان کے مطابق اس کی ضرورت ہر کیس میں نہیں ہوتی۔

اس بارے میں ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی نے کہا ’اس وقت پاکستان کے زیادہ تر ڈاکٹرز ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال بھاگتے نظر آتے ہیں۔ اس دوڑ میں مریض کو ’آسان عمل‘ بتانے کے چکر میں سی سیکشن تجویز کی جاتی ہے۔ جو لوگ اپنی جان آسانی کے لیے کر لیتے ہیں مگر بعد میں پچھتاتے ہیں۔‘

اس وقت پاکستان کے ہر ہسپتال میں نارمل ڈیلیوری اور سی سیکشن کی قیمت مختلف ہے۔ جہاں نجی ہسپتالوں میں جانے والے مریض 50 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک دیتے ہیں وہیں سرکاری ہسپتالوں میں نارمل ڈیلیوری چند ہزاروں میں کی جاتی ہے۔

حبیبہ کا پہلے بچے کے دوران مِس کیرج ہوا جس کے بعد دوسری بار انھوں نے زچگی کے دوران بہت احتیاط برتی۔

حبیبہ کا پہلے بچے کے دوران مِس کیرج ہوا جس کے بعد دوسری بار انھوں نے زچگی کے دوران بہت احتیاط برتی

’اسی احتیاط کو دھیان میں رکھتے ہوئے میں نے اور میرے شوہر نے سی سیکشن کرانے کا سوچا کیونکہ اور کوئی حل نہیں سمجھ آ رہا تھا۔‘

تاہم ڈاکٹر ثمرینہ نے کہا ’سرکاری ہسپتال اس بارے میں بدنام ہیں لیکن وہاں لوگ تب جاتے ہیں جب اُن کا کیس کہیں اور خراب ہوجاتا ہے۔

اس بارے میں اب ہسپتال اپنی طرف سے گائیڈ کے طور پر پمفلٹ بھی بانٹتے ہیں تاکہ لوگ کوئی مشورہ کرنے سے پہلے سوچیں۔‘

ڈاکٹر ثمرینہ نے اپنے ہسپتال میں نارمل ڈیلیوری کے چارجز کم رکھے ہیں تاکہ ’خواتین کو نارمل طریقے سے بچے کو جنم دینے کی طرف مائل کیا جا سکے۔‘

سرجری اور ٹوٹکے؟

ڈاکٹروں کی شکایت ہے کہ عام طور پر خواتین کے آس پاس موجود لوگ انھیں آزمودہ باتوں کے نام پر گمراہ کر دیتے ہیں اور آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے وہ اُن پر عمل کر لیتی ہیں۔

کراچی میں گائنی کے شعبے سے منسلک ڈاکٹر نگہت شاہ نے کہا کہ اُن کے پاس دو طرح کی مریض آتی ہیں۔ ایک وہ جو آپریشن کے فوراً بعد کام کاج شروع کردیتی ہیں، اُن کو کہنا پڑتا ہے کہ وہ آرام کریں اور دوسرے وہ جن کو ڈرایا جاتا ہے کہ بستر سے مت اٹھو۔

’ٹھنڈا پانی نہیں پیو‘

انھوں نے کہا کہ آپریشن کے بعد دواؤں سے زیادہ صفائی کا عمل دخل ہوتا ہے۔ ’جیسے پہلے ہوتا تھا پانی میں نا جاؤ، پانی پیو نہیں اس سے پیٹ نکل آئے گا، یہ ٹھنڈا وہ گرم تو ٹھنڈا گرم کے شواہد تحقیق میں نہیں ملتے۔‘

ڈاکٹر نگہت شاہ

حبیبہ کے بیٹے کی پیدائش سے پہلے اُن کا بلڈ پریشر بڑھ گیا، ہیپٹائٹس کی تشخیص ہوئی اور شوگر بھی شوُٹ کر گیا۔

’لیکن آپریشن کے بعد ساری چیزیں جیسے رُک گییں ۔میں اپنے آس پاس لوگوں سے پوچھتی تھی کہ مجھے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔ میرے پاس خوراک کا پلان تھا لیکن بڑے بوڑھوں کی بتائی ہوئی باتیں جن میں پنجیری اور پکھی کھانے کے علاوہ سیڑھیاں اترنے چڑھنے سے منع کیا گیا تھا۔‘

اس بارے میں حبیبہ نے کہا ’میں نے سی سیکشن کے بعد ایک ماہ تک اپنے بیٹے کو گود میں نہیں اٹھایا کیونکہ مجھے وزن اٹھانے سے منع کیا گیا تھا۔‘

لیکن بعد میں جب انھوں نے اس بارے میں ایک اور ڈاکٹر کو بتایا تو انھوں نے کہا کہ اس قسم کی کوئی ممانعت نہیں۔

’مجھ پر اتنا خوف طاری تھا کہ یہ نہیں کرنا، وہ نہیں کرنا کہ تین ماہ کے آرام کے بجائے میں نے چھ ماہ احتیاط کی۔ اس کی وجہ سے میں جو کھیل یعنی سکوائش گھنٹوں کھیلتی رہتی تھی، وہ میں دو تین شوٹ کھیلنے کے بعد ہی بیٹھ جاتی تھی۔ میں نے کھیلنے سے پہلے سٹریچ کرنا چھوڑ دیا کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ ٹانکے کُھل جائیں گے۔‘

کراچی کی رہائشی عمرانہ وسیم نے بتایا کہ اُنھوں نے آپریشن کے فوراً بعد کام شروع کردیا۔ عمرانہ جوائنٹ فیملی میں رہتی ہیں جہاں ان کے مطابق کم از کم 15 لوگ رہتے ہیں۔

اُن کے روز کے کام میں ناشتے اور دوپہر کے کھانے کے بعد برتن دھونا، روٹیاں بنانے کے لیے گھنٹوں کھڑے رہنا اور کھانے کے بعد چائے بنانا شامل ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ میں سرجری سے پہلے ڈاکٹر کے پاس اپنی ساس کو لے کر گئی اور ڈاکٹر کو کہا کہ اِن سے کہیں مجھ سے کام نا کروائیں۔‘

’میری سرجری ایمرجنسی میں کی گئی تھی۔ میری بیٹی کی پیدائش کے ایک ماہ بعد جب میں چیک اپ کے لیے گئی تو میرے ٹانکوں میں پس بھر چکی تھی۔ پس بھرنے کے نتیجے میں ایک چھوٹی سرجری اور ہوئی اور ٹانکوں کو دوبارہ کھلوا کر لگانا پڑا۔‘

اس بارے میں ڈاکٹر نگہت نے کہا کہ آپریشن کے بعد پیٹ اور اندر کے ٹانکوں کو وقت چاہیے ہوتا ہے ٹھیک ہونے کے لیے۔ جس کی وجہ سے چہل پہل کو سراہا جاتا ہے۔

’اسی طرح اِن ٹانکوں کی صفائی کا خیال بھی رکھنا ہوتا ہے، جو نا ہونے کی صورت میں ٹانکوں کی جگہ پس ہونے اور اُن کے کھلنے کا خدشہ بھی رہتا ہے۔‘

کھانے پینے کے بارے میں ڈاکٹر نگہت نے کہا کہ یا تو مریض کے آس پاس لوگ کہتے ہیں کہ کچھ نہیں کھاؤ پیو یا پھر کہیں گے کہ پنجیری اور حلوے اور گھی اور مکھن کھالو۔

’اگر تو بچے کی پیدائش کے بعد آپ کا وزن بہت ہی کم ہو گیا ہے تو تھوڑا بہت کھا سکتے ہیں۔لیکن یہ کھانے کی بھی ایک مقدار مختص ہوتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان میں اس پر تو بحث جاری ہے کہ سی سیکشن ہونا چاہیے یا نہیں لیکن سی سیکشن ہونے کے بعد زیادہ تر خواتین کو آرام نہیں کرنے دیا جاتا۔ اس لیے زیادہ تر کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ بچے کی پیدائش کے بعد اپنی ماں کے گھر جائیں جہاں ان کا زیادہ خیال رکھا جا سکے۔‘


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

5