ٹک ٹاک انتظامیہ کا پاکستان میں پابندی پر باضابطہ ردعمل سامنے آگیا

پاکستان میں پابندی لگائے جانے پر  ٹک ٹاک انتظامیہ کا باضابطہ ردعمل سامنے آگیا۔

تفصیلات کے مطابق ٹک ٹاک کی جانب سے پاکستان میں پابندی کے حوالے سے ایک بیان میں باضابطہ ردعمل ظاہر کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبرٹک ٹاک کو کیوں بند کیا گیا؟ حکومت نے وجہ بتادی

حکومت پاکستان کی جانب سے ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کی وجہ...

بیان میں کہا گیا  ہے کہ مقبول  موبائل ایپلیکیشن ٹک ٹاک کا مشن تخلیق اور تفریح کو آگے بڑھانا ہے  اور یہی ہم نے پاکستان میں کیا۔

ٹک ٹاک انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا کہ  ہم نے ایک ایسی برادری کا قیام ممکن بنایا، جس کی تخلیقی صلاحیت اور جذبہ پاکستان بھر کے خاندانوں کے لیے خوشی کا باعث بنا جبکہ باصلاحیت افراد کے لیے بڑے اقتصادی مواقعوں کے راستے بھی کھلے۔

متعلقہ خبرٹک ٹاک کی بندش کا معاملہ، فواد چوہدری کا وزیر اعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ

پاکستان میں ٹک ٹاک کی بندش  کے معاملے   پر  وفاقی وزیر برائے...

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں افسوس ہے کہ پاکستان میں ہمارے صارفین تاحال ٹک ٹاک تک رسائی سے محروم ہیں، ہماری سروسز کی بندش کو اب ایک ہفتے سے زیادہ وقت ہوچکا ہے۔

واضح رہے کہ  پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے رواں ماہ کی 9 تاریخ کو ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک پر پابندی عائد کی تھی۔

متعلقہ خبرحریم شاہ کا وزیر اعظم سے ٹک ٹاک پر سے پابندی ہٹانے کا مطالبہ

معروف ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ    نے وزیر اعظم  عمران خان سے...

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز  گل کا کہناتھا کہ  موبائل ایپ ٹک ٹاک کو غیر اخلاقی مواد کے باعث بند  کیا گیا ہے۔

پی ٹی اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ٹک ٹاک انتظامیہ ایپلی کیشن سے نامناسب اور متنازع مواد کو ہٹانے میں ناکام رہی ، جس کی وجہ سے ٹک ٹاک پر پابندی لگائی گئی۔۔

متعلقہ خبرٹک ٹاک بند کرنے کا فیصلہ بہترین ہے، شاہد آفریدی

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی بھی ٹک ٹاک پر...

پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ چینی ایپلی کیشن کی انتظامیہ کو بار بار متنازع اور نامناسب مواد ہٹانے کے لیے ہدایات جاری کی گئیں، تاہم ایپ انتظامیہ ایسا کرنے میں ناکام رہی۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

226