نورمقدم قتل کیس:مرکزی ملزم ظاہرجعفر سمیت12ملزمان پرفردِجرم عائد

image

سیشن کورٹ نے نورمقدم قتل کیس میں مرکزی ملزم ظاہرجعفر سمیت 12 ملزمان پر فرد جرم عائد کردی ہے۔

جمعرات کو ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نےملزمان پر فرد جرم عائد کی۔عدالت میں مرکزی ملزم سمیت 6 ملزمان کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کچہری عدالت پیش کیا گیا۔ ضمانت پر موجود تھراپی ورک کے 6 ملزمان بھی عدالتی نوٹس پر ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے۔ مرکزی ملزم ظاہرجعفر،ذاکر جعفر،عصمت آدم،افتخار،جمیل،جان محمد پرفرد جرم عائد کی گئی۔ تھراپی ورک کے طاہر ظہور سمیت6 ملزمان پر بھی فرد جرم عائد کی گئی۔ ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا ہے۔ عدالت نے استغاثہ کے گواہ 20 اکتوبر کو طلب کرلیے ہیں۔

دوران سماعت ذاکر جعفر کے وکیل رضوان نے بتایا کہ عدالت میں پیش شواہد کا ذاکر جعفر سے تعلق نہیں بنتا اوران شواہد کی بنا پر فرد جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔شوکت مقدم کےوکیل نے بتایا کہ ان شواہد کا جائزہ ٹرائل میں لیا جا سکتا کیوں کہ اس وقت فرد جرم عائد کی جا رہی ہے اور سزا نہیں سنائی جا رہی ہے۔

وکیل کے دلائل کے دوران ظاہر جعفر مسلسل مداخلت کرتے رہے۔انھوں نے تھراپی ورکس کے اہلکاروں کی جانب سے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بندے میرے گھر داخل ہوئے۔ ظاہر جعفر نے کہا کہ میری زندگی خطرے میں ہے اور یہ میری جائیداد کا ذکر کررہے ہیں،میری جائیداد سے متعلق یہاں بات نہ کی جائے۔ ملزم ظاہر جعفر نے انکشاف کیا کہ نور قربان ہونا چاہتی تھی اور اس نے خود کو قربانی کیلئے پیش کیا۔

ملزم ظاہر جعفر نے کمرہ عدالت میں شوکت مقدم سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لی اور کہا کہ میرے زندگی خطرے میں ہے،مجھ  پر رحم کریں۔ظاہر جعفر کا ملازم ملزم افتخار کمرہ عدالت میں رو پڑا اور کہا کہ نور مقدم کا کا دو سال سے آنا جانا تھا اور مجھے علم نہیں تھا کہ یہ ہوجائے گا۔

پچھلی سماعت میں کیا ہوا تھا:۔ سات اکتوبر کو ایڈشنل سیشن جج نےملزمان کی جانب سے بیانات کی کاپیاں اور سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کرنے کی درخواستیں خارج کردی تھیں۔ جج عطاءربانی نے ریمارکس دئیے تھے کہ بیانات کی نقول پہلے ہی فراہم کی جا چکی ہیں اور اب ڈیجیٹل شواہد کا معاملہ ٹرائل کے دوران دیکھیں گے۔ ظاہرجعفر نے عدالت میں بیان دیا تھا کہ اپنے کیئے پرمعافی مانگتا ہوں۔

تیرہ اکتوبر کو تھراپی ورکس کے مالک نے دستاویزات فراہمی کا مسترد ہونے والا سیشن کورٹ کا فیصلہ  اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔ درخواست میں 7 اکتوبر کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی۔طاہر ظہور نےموقف اختیار کیا کہ ایڈیشنل سیشن جج نے مناسب وجہ بتائے بغیر دستاویزات فراہم کرنے کی درخواست مسترد کی اور عدالت یہ فیصلہ غیرآئینی وغیر قانونی قرار دے کر ٹرائل سے پہلے تمام دستاویزات فراہم کرنے کا حکم دے۔

ذاکرجعفراورعصمت ذاکرکی اسلام آبادہائیکورٹ کے فیصلےکےخلاف اپیل:۔اس کےعلاوہ6 اکتوبر کو نورمقدم قتل کیس میں گرفتار ذاکر جعفر اورعصمت ذاکر نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی۔ یہ اپیل ایڈووکیٹ خواجہ حارث کی جانب سے دائر کی گئی۔ اپیل میں موقف اختیار کیا گیا کہ ہائیکورٹ نے ضمانت کے اصولوں کو مد نظر نہیں رکھا اور حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا گیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین ذاکر جعفر اور عصمت ذاکر کی ضمانت کی درخواست خارج کی تھی۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا  کہ بادی النظر میں ظاہر جعفر کے والدین اعانت جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ والدین جانتے تھے کہ ملزم ظاہر جعفر نے لڑکی کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

اپنے فیصلے میں عدالت نے حکم دیتے ہوئے کہا کہ ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہیں۔نورمقدم کیس کا ٹرائل 8 ہفتے کے اندر مکمل کیا جائے، جب کہ پولیس اپنے شواہد جلد عدالت میں پیش کرے۔

بعد ازاں جاری تفصیلی فیصلے میں عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ مرکزی ملزم کے والدین کے پاس معلومات ہونے کے باوجود انہوں نے پولیس کو اطلاع نہیں دی۔ چوکیدار واضح کہہ چکا ہے کہ اس نے ذاکر جعفر کو اطلاع دی تھی۔ تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ اعانت قتل بھی قتل کرنے جیسا ہی سنگین جرم ہے۔

فیصلےمیں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جرم میں اعانت کیلئے ڈائریکٹ معاونت کے شواہد ہونا بطور اصول ہر جگہ لاگو نہیں ہو سکتا۔ اعانت جرم اِن ڈائریکٹ بھی ہو سکتی ہے جس کیلئے واقعاتی شواہد کافی ہیں۔ بلیک لا ڈکشنری کے مطابق اپنا فرض ادا نہ کرنے بھی اعانت جرم ہے۔ ظاہر جعفر نے بیان میں کہا اس نے والد کو قتل سے پہلے آگاہ کیا تھا۔

تفصیلی فیصلے میں عدالت نے مزید لکھا ہے کہ ظاہر جعفر کا بیان قابل قبول ہے یا نہیں فیصلہ ٹرائل کورٹ نے کرنا ہے۔ چوکیدار کی اطلاع کے بعد زاکر جعفر نے تھیراپی ورکس کے مالک کو آگاہ کیا۔ تھیراپی ورکس کو اطلاع ملنے کے بعد بھی پولیس کو اطلاع دینے کی کوشش نہیں کی گئی۔ قابل ضمانت دفعات پر بھی بعض معاملات کے ہوتے ضمانت مسترد ہوسکتی ہے۔ ملزمان کے شواہد یا گواہان پر اثرانداز ہونے کا امکان ہو تو ضمانت مسترد ہو سکتی ہے۔ ریکارڈ کے مطابق ظاہر جعفر کے والدین نے شواہد چھپانے اور کرائم سین صاف کرنے کی کوشش کی۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.