سپریم کورٹ،سندھ اوروفاق متاثرین کی بحالی یقینی بنائیں، ایکشن کمیٹی

image
کراچی میں گجر نالہ آپریشن کے دوران متاثرین گھروں سے باہر کھڑے ہیں۔ فوٹو: آن لائن

کراچی میں انسداد تجاوزات مہم سے متاثرہ افراد کی بحالی کیلئے قائم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے انسداد تجاوزات مہم کو یکطرفہ عمل قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ، وفاقی اور صوبائی حکومت سے متاثرین کی بحالی یقینی بنانے کا مطالبہ کردیا۔

کراچی پریس کلب میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ممبران تنظیموں کے نمائندوں عارف حسن (اربن ریسورس سینٹر)، کرامت علی (پائلر)، اسد بٹ (کمیشن برائے انسانی حقوق)، ناصر منصور (نیشل ٹریڈ یونین آف فیڈریشن)، خواجہ الطاف ایڈووکیٹ اور اورنگی ٹاؤن و گجر نالہ متاثرین نے پریس کانفرنس کی۔

پریس کانفرنس سے متعلق میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا کہنا تھا کہ اورنگی ٹاؤن، گجر نالہ، گڈاپ ٹاؤن میں قدیم گوٹھوں اور سرکلر ریلوے کراچی سے بے دخل کئے گئے متاثرین کی بحالی کیلئے ہمیشہ آواز اٹھائی، وفاقی، صوبائی حکومتوں اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اعلیٰ حکام کی توجہ ایک بار پھر 14 ہزار سے زائد خاندانوں کی حالت زار پر کی جانب دلانا چاہتے ہیں۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ممبران نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران سپریم کورٹ کے حکم پر 7 ہزار سے زائد مکانات تورے گئے تاہم عدالت عظمیٰ کے حکم نامے کے دوسرے حصے، جس میں متاثرین کو تمام بنیادی سہولیات کے ساتھ دوبارہ آباد کرنے کی ہدایت کی گئی تھی پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے 14 جون 2021ء کے فیصلے میں کہا تھا کہ متاثرین کی آباد کاری سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے، صوبائی اور وفاقی حکومت مل کر اورنگی نالے اور گجر نالے کے متاثرین کو ایک سال کے اندر تمام سہولیات کے ساتھ آباد کرے۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں ابھی تک کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

کمیٹی نے اپنی فائنڈنگز بتاتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال سے صاف ظاہر ہے کہ کراچی کے متاثرہ خاندانوں کی بحالی میں وفاقی، صوبائی حکومتوں اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کی کوئی دلچسپی نہیں، کوئی حکومتی ادارہ متاثرین سے بات کرنے کو تیار نہیں، عوام حکومتی اداروں سے ناامید ہوگئے ہیں۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کے سامنے درج ذیل مطالبات رکھے۔

۔1 سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت وفاقی و صوبائی حکومتیں سرکلر ریلوے، اورنگی ٹاؤن نالہ اور گجر نالہ کے متاثرین کی آباد کاری کیلئے ایک قابل عمل منصوبے کا اعلان کریں۔

۔2 حکومت ایک غیر جانبدار کمیشن قائم کرے جو اس انسداد تجاوزات کے پورے عمل کا جائزہ لے اور ان سرکاری افسران کی نشاندہی کرے جن کی سرپرستی میں ناصرف تجاوزات قائم ہوئیں بلکہ لوگوں کولیز بھی جاری کی گئیں۔ کمیشن ایسے بدعنوان افسران کیخلاف کارروائی بھی تجویز کرے۔

۔3 اس مجوزہ کمیشن کے ذریعے متاثرین کا از سر نو سروے کیا جائے تاکہ اصل متاثرین کی آباد کاری ممکن ہوسکے۔ اس وقت متاثرین کی جو فہرست تیار کی گئی ہے، ان میں کئی متاثرین کے نام شامل نہیں جبکہ دوسری طرف جعلی ناموں کی بھرمار بھی ہے۔

۔4 حکومت پاکستان کے قوانین کے مطابق کسی بھی منصوبے میں بے دخلی کی صورت میں دوبارہ آباد کاری یا معاوضے کی ادائیگی اس منصوبے کا لازمی جز ہوتا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس قانون پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

۔5 دوبارہ آباد کاری کیلئے ایک نگراں کمیٹی بنائی جئے جس میں متاثرین کے نمائندے بھی شامل ہوں۔

۔6 ملیر اور گڈاپ کے قدیم گوٹھوں میں جبری بے دخلی کا عمل فوری طور پر بند کیا جائے۔ متاثرہ خاندانوں کو ترجیحی بنیاد پر آباد کیا جائے۔ بحریہ ٹاؤن سے حاصل شدہ جرمانے کی رقم ان گوٹھوں کی ترقی اور فلاح و بہبود پر خرچ کی جائے۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے انسداد تجاوزات کو یکطرفہ عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے صرف غریب اور متوسط طبقہ کے لوگ متاثر ہوئے، عدالتی فیصلہ بااثر طبقہ کو تحفظ دے رہا ہے، سپریم کورٹ نے متاثرین کی آباد کاری کے اپنے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا، یہ انصاف کے منافی ہے۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.