پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں پر خطر اور مہم جو وائٹ واٹر کیاکنگ کھیل کا انعقاد

image

پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے بلند وبالا پہاڑوں کے درمیان بہنے والے دریاؤں نے وائٹ واٹر کیاکنگ کھیل کے شوقین غیر ملکی کھلاڑیوں کو اپنی جانب راغب کر لیا ہے۔

اس مہم جو کھیل میں بے خوفی ، دلیری اور بہادری سے منہ زور بہتے دریا میں ایک چھوٹی سی کشتی میں اپنے دونوں بازوؤں کے دم پر کشتی رانی کرنی ہوتی ہے۔

شمالی علاقہ جات میں بہنے والے دریائے سندھ ، دریائے گلگت اور دریائے کہنار کی لہروں کا شور کانوں میں رس گھول دیتے ہیں مگر ان دریاؤں میں تیریا ماہر سے ماہر تیراک کے لئے بھی انتہائی مشکل اور پر خطر ہے۔

ان دریاؤں میں نظر نہ آنے والی سخت چٹانوں اور بڑے بڑے پتھروں کا ڈیرہ ہے جو پانی کے تیز بہاؤ میں بہہ کر آنے والے کے لئے موت کا پیغام ہے۔

وائٹ واٹر کیاکنگ کے خطرناک کھیل کے لئے امریکی مہم جو بنجمن لک اپنے تین ساتھیوں کوڈی بینچ ، لوئس نورس اور اینگلمین کے ہمراہ سکردو پہنچے ۔

ان چاروں نے ایک نشست والی چھوٹی سی کشتی میں سوار ہر کر اسکردو کے مقام سے منہ زور دریا کے پانی میں اترے اور گلگت کے مقام پر دریائے گلگت پر اپنے منصوبے اور طے شدہ وقت کے مطابق بحفاظت اور کامیابی کے ساتھ سفر کا اختتام کیا۔ اس دوران انہوں نے 140 کلومیٹر کا فاصلہ چھ دن میں مکمل کیا۔

وائٹ واٹر کیاکنگ دنیا کے مختلف ممالک میں مقبول ہے ، امریکہ کینیڈا ، برطانیہ اور دیگر ممالک کے مہم جو کھلاری اس کھیل سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس کھیل میں کھلاڑیوں کو سفر کے دوران صرف ایک چھوٹی کشتی اور ایک چپو کے ساتھ سفر کرنا ہوتا ہے اور ماہر کشتی ران کا کشتی رانی میں مہارت کے ساتھ ایک بہترین تیراک بھی ہونا ضروری ہوتا ہے۔

ماضی کے مقابلے میں یہ کھیل حفاظتی نقطہ نگاہ سے کافی بہتر ہو چکا ہے ، اب کھلاڑیوں کو ہیلمٹ ، لائف جیکٹس اور رسی سمیت دیگر سامان بھی میسر ہے۔

پاکستان میں اس کھیل کی شروعات غیر ملکی مہم جووؤں نے شروع کی ہے ، اور گزشتہ چند سالوں میں یہ چھٹی ٹیم ہے جو اس پرخطر کھیل میں حصہ لینے کے لئے پاکستان آئی تھی۔ حکومت پاکستان اگر اس کھیل کی آبیاری کا بیڑہ اٹھائے تو اس سے ملک میں بین الاقوامی سیاحوں اور مہم جو کھلاڑیوں کی آمد سے کافی فائدہ ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ وائٹ واٹر کیاکنگ کھیل جدید شکل میں اولمپکس گیمز میں بھی شامل ہے۔

Square Adsence 300X250


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
کھیلوں کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.