ملک میں غیر منقولہ جائیدادکی قیمتوں میں اضافہ

image

فائل فوٹو

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ڈھائی سال کے وقفے کے بعد کراچی سمیت ملک کے متعدد شہروں میں غیر منقولہ جائیدادوں کی ویلیوایشن میں تبدیلی کی ہے۔

غیر منقولہ گھریلو، کمرشل جائیداد اور فلیٹس پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس کا دائرہ کار21 سے 40 شہروں تک بڑھایا گیا ہے۔

سرکاری تشخیص کے تحت جائیداد کی قیمتوں میں 10 فیصد سے 15 فیصد کے درمیان اضافہ ہوا ہے جبکہ کچھ شہروں میں 100 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

 قیمت کا استعمال جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس کا تعین کرنے کے لیے کیا جاتا ہے اور اضافہ جائیداد کے سودے کو مزید مہنگا بنا دیتا ہے۔ رئیل اسٹیٹ ایجنٹس نے نئے نرخوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور احتجاج شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔

 جمعرات کو جب نئی مالیت کے ایس آر اوز جاری کیے گئے تو ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ کراچی کے لیے پراپرٹی کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ تاہم سماء ٹی وی نے بعد میں اطلاع دی کہ کراچی کے لیے جائیداد کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

 کراچی میں اے 1 کیٹیگری کے رہائشی پلاٹ کی فی مربع گز قیمت میں 31 ہزار روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ دو منزلہ یا اس سے زیادہ عمارتوں کے نرخوں میں بھی 25 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

 تعمیر شدہ رہائشی املاک کی فی مربع گز قیمت میں 43 ہزار روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح کمرشل کھلے پلاٹوں، ​​کمرشل تیار شدہ پراپرٹیز اور اپارٹمنٹس کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

 پنجاب کے کم از کم 13 نئے شہر، سندھ سے تین، خیبر پختونخوا سے دو اور بلوچستان سے ایک شہر ان شہروں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جہاں ٹیکس کے لیے ایف بی آر کی ویلیوایشن استعمال کی جاتی ہے۔

 پاکستان رئیل اسٹیٹ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن سے تعلق رکھنے والے احسن ملک کا کہنا ہے کہ پراپرٹی ڈیلرز پراپرٹی کے کاروبار میں اصل اسٹیک ہولڈر ہیں لیکن حکومت انہیں اعتماد میں لینے میں ناکام رہی ہے۔

 احسن ملک نے سماء ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت ان ایس آر اوز کو واپس نہیں لیتی ہے یا قیمتوں کے ٹیبل پر نظر ثانی کے لیے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کرتی ہے، تو ہم اس اقدام کے خلاف احتجاج کریں گے۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.