کیاچین سے ملنے والے جے10 طیارے بھارتی رافیل کامقابلہ کرسکیں گے

image
فائل فوٹو

چین رواں سال مارچ میں جدید ترین فورتھ جنریش کے حامل جے 10 سی طیاروں کی کھیپ پاک فضائیہ کے حوالے کرے گا۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ اس سال 23 مارچ کو ہونے والی افواج پاکستان کی پریڈ میں یہ طیارے فلائی پاسٹ کا مظاہرہ بھی کریں گے۔

طیاروں کے اس معاہدے کی ابتدا میں وفاقی وزی داخلہ شیخ رشید احمد اور بعد ازاں عسکری ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے بھی تصدیق کردی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاک افواج کے ترجمان کی جانب سے یہ تصدیق ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب بھارت نے پاکستان سے ملحقہ سرحد پر روسی ساختہ ایس-400 میزائل ڈیفنس سسٹم نصب کر دیا ہے۔

بھارت کے فضائی بیڑے میں شامل فرانسیسی لڑاکا طیارے رافل کا اگر پاک چین مشترکا پراجیکٹ جے 10 سی طیاروں کا موازنہ کیا جائے تو بعض دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جے 10 سی فائٹر جیٹ بھارت کے حالیہ عرصہ میں فرانس سے حاصل کردہ رافیل طیاروں کا مکمل مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور بعض شعبوں میں یہ طیارہ اس سے بھی آگے ہے۔

چینی طیارے جے 10 سی بنانے والی کمپنی چینگڈو ایئر کرافٹ انڈسٹری گروپ نے یہ طیارے 1980 کے عشرے میں بنانا شروع کیے اور مارچ 1998 میں اس طیارے نے پہلی پرواز بھری۔ 2005 میں اسے باقاعدہ طور پر پیپلز لبریشن آرمی میں شامل کیا گیا۔

اب تک جے 10 طیارے کے تین ورژن اے بی اور سی سامنے آ چکے ہیں اور جے 10سی ان میں سے کامیاب طیارہ سمجھا جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس طیارے کے پروں کی ہیئت امریکی ساختہ ایف 16 طیاروں کی طرز پر ہے۔

سنگل انجن ملٹی رول جے 10سی طیارہ ڈیلٹا ونگز کا حامل جدید لڑاکا طیارہ ہے جو بیک وقت کئی اہداف کی نشان دہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ طیارہ پی ایل 15 میزائلوں سے لیس ہے جس کے ذریعے 200 کلو میٹر تک اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جے 10 سی طیارہ پاکستام اور چین کی مشترکہ مشق شاہین میں بھی حصہ لے چکا ہے، اس نے اس دوران تمام اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

کیا جے 10 اسٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس ہوگاجے ایف 17 تھنڈر پراجیکٹ کا حصہ رہنے والے ایئر مارشل (ر) شاہد لطیف کے مطابق 15 برس قبل جب ہم جے ایف 17 بنا رہے تھے تو چین نے اس وقت پاکستان کو یہ طیارے دینے کی پیش کش کی تھی، تاہم لیکن اس وقت ہمیں اس جہاز میں کچھ خامیاں نظر آئیں جس پر ہم نے جے ایف 17 کو ترجیح دی۔

تجزیہ کار کے مطابق جے 10 طیارہ رافیل سے بہتر ہے کیونکہ یہ طیارہ اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کا حامل ہے، اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کا حامل طیارے ریڈار پر نظر نہیں آتا، ہ یہ طیارہ بنا ہی ایسے مواد سے ہے جو اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کا حامل ہے لہذا یہ طیارہ پاکستان کے لیے بہت بہتر رہے گا۔

اس طیارے میں جدید ساز و سامان شامل کر دیا گیا ہے، اس کے ایویانکس بہت جدید انداز کے ہیں، ریڈار بہت شان دار ہے اور ہدف کا نشانہ بنانے کی رینج ایف سولہ سے بہتر ہے۔

پاک فضائیہگزشتہ 20 برسوں میں پاکستان نے جے ایف 17 اور امریکی ساختہ ایف سولہ بلاک 52 کے نئے ورژن حاصل کیے ہیں، ہ پاکستان فرینچ، امریکی، چینی سسٹمز کو زیادہ پسند کرتا ہے کیونکہ روسی طیاروں کو پاکستانی انجینیرز اور پائلٹس نے کبھی استعمال نہیں کی، پاکستان ایک عرصہ سے نئے طیارے دیکھ رہا تھا اور اس مقصد کے لیے چینی جے 10 سی پاکستان فضائیہ کے لیے بہتر سمجھے جا رہے ہیں۔

جے 10 بمقابلہ رافلے 10 سی اور رافیل کے سسٹمز میں سے دونوں جہاز انفرادی طور پر الگ الگ خصوصیات کے حامل ہیں، رافیل طیارہ ڈیول انجن ہے جب کہ جے 10 سی سنگل انجن جہاز ہے، پاکستانی پائلٹس سنگل انجن طیارہ اڑانے کے ماہر ہیں جب کہ بھارتی پائلٹس سخوئی اور دیگر طیارے اڑانے کی وجہ سے ڈیول انجن طیاروں پر زیادہ بہتر محسوس کرتے ہیں۔

رافیل کے ریڈار جے 10 سی کے مقابلہ میں بہتر ہیں جب کہ جے 10 سی کی نقل و حرکت اور فضا میں پرواز زیادہ بہتر ہے، سنگل انجن ہونے کی وجہ سے اس کے فیول کے اخراجات کم ہیں جب کہ رافیل میں فیول کا خرچ زیادہ ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ دونوں طیاروں میں انیس بیس کا فرق ہو گا، لیکن اگر قیمت کا جائزہ لیں تو اس میں زمین آسمان کا فرق ہے اور اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان یہ طیارے کیوں لے رہا ہے، پاکستان اس وقت صرف چین کے ساتھ نہیں بلکہ کئی ممالک کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

طیاروں کا معاہدہان طیاروں کی خریداری کے حوالے سے اب تک حکومتِ پاکستان کی طرف سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ تاہم مقامی میڈیا پر آنے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان پہلے مرحلہ میں 10 طیارے خریدے گا۔

شیخ رشید احمد نے اگرچہ ان جہازوں کی پاکستان میں 23 مارچ کو پرواز کا اعلان تو کیا ہے لیکن کیا یہ طیارے پاکستانی پائلٹس ملکیت کے ساتھ اڑائیں گے یا پھر چینی پائلٹس اڑائیں گے، اس بارے میں بھی اب تک حکومت کی طرف سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

عام طور پر ایک طیارہ خریدنے کے عمل سے قبل ایک طویل عرصہ پائلٹس اور انجینیرز کی تربیت کے لیے درکار ہوتا ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ جنوری کے دوسرے ہفتے میں چین جائیں گے ۔ امکان ہے کہ اس دورے کے دوران اس طیارے کے حوالے سے بھی کوئی اعلان سامنے آ سکتا ہے۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
سائنس اور ٹیکنالوجی
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.