اسپیس ایکس سیٹلائٹ کی بھرمار سے ماہرینِ فلکیات غضبناک

image

شاید آپ کو یاد ہوگا کہ چند ماہ قبل بلوچستان میں رات کے فضا میں تیزی سے بھاگتے روشن نقطوں پر بہت بحث ہوئی تھی۔ تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ایلون مسک کی مشہور اسپیس ایکس کمپنی کے انٹرنیٹ سیٹلائٹ ہیں۔ اب خبر یہ ہے کہ ماہرینِ فلکیات دھڑادھڑ بھیجے جانے والے سیٹلائٹ سے بہت ناخوش ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بہت چمکیلے سیٹلائٹ ہیں۔ ان کا مدار زمین سے قریب تر ہے۔ اس لیے دنیا بھر میں دوربین سے آسمان کا نظارہ کرنے والے ماہر اور شوقیہ فلکیات دانوں کے منظر میں یہ بار بار نمودار ہورہے ہیں۔ اب صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ دنیا بھر میں ہر پانچ میں سے ایک دوربین کا نظارہ ان سیٹلائٹ کی وجہ سے آلودہ ہورہا ہے۔

اس طرح سنجیدہ فلکیات اور خلابینی ناممکن ہوکررہ گئی ہے۔ اس سے قبل چین نے بھی اسپیس ایکس سیٹلائٹ کے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے ممکنہ تصادم سے بار بار خبردار کیا ہے۔

اسپیس ایکس کے اس وقت 1700 کے قریب اسٹارلنک سیٹلائٹ نچلے ارضی مدار میں گھوم رہے ہیں اور ان کی وجہ سے رات کا منظر ایسا لگتا ہے کہ جیسے آسمان پر روشنیوں کی ریل گاری بھاگے جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سنجیدہ ماہرینِ فلکیات اس سے بہت پریشان ہیں۔

دوسری جانب ماہرین کہتے ہیں کہ اسٹارلنک سیٹلائٹ کی بھرمار سے ایک جانب تو آسمانی بینی مشکل ہوئی ہے تو دوسری جانب جلد یا بدیر یہ ناکارہ ہوکرزمینی خلائی کچرے کی شکل اختیار کرجائیں گے اور یوں خوبصورت کائنات کا دلفریب نظارہ بہت مشکل ہوجائے گا۔

لیکن اب بھی کئی کمپنیاں اپنے اپنے سیٹلائٹ بھی بنارہی ہیں اور ان سب کا مقصد کم خرچ سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرنا اور اس کی مارکیٹ پر قبضہ کرنا ہے۔ اس ضمن میں ون ویب نامی ایک منصوبہ چل رہا ہےاور ایمیزون نے بھی کیوپر نامی سیٹلائٹ منصوبہ شروع کررکھا ہے۔

ماؤنٹ پالومر پر قائم خلائی رصدگاہ نے یہ پریشان کن خبر دی ہے کہ صرف 2019سے ستمبر 2021 کے دوران اسٹارلنکے سیٹلائٹ نے 5300 مرتبہ ان کے مشاہدات میں رخنہ ڈالا اور یوں فلکیاتی تحقیقی کام کو بار بار روکنا پڑا۔

سائنسدانوں نے عالمی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ ان کمپنیوں کے ضابطہ اخلاق مرتب کرے۔

Square Adsence 300X250


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
سائنس اور ٹیکنالوجی
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.